دیباچہ تفسیر القرآن — Page 216
اپنے قیدیوں کو خود چھڑائیں گے اورمدینہ کے مختلف مسلمان قبائل بھی اسی طرح اِن امور میں اپنے قبائل کے ذمہ دار ہوں گے۔جو شخص بغاوت پھیلائے یا دشمنی پیدا کرے اور نظام میں تفرقہ ڈالے تمام معاہدین اُس کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے۔خواہ وہ اُن کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔اگر کوئی کافر مسلمان کے ہاتھ سے لڑائی میں مارا جائے تو اُس کے مسلمان رشتہ دار مسلمان سے بدلہ نہیں لیں گے اور نہ کسی مسلمان کے مقابلہ میں ایسے کافر کی مدد کریں گے۔جو کوئی یہودی ہمارے ساتھ مل جائے اس کی ہم سب مدد کریں گے۔یہودیوں کو کسی قسم کی تکلیف نہیں دی جائے گی نہ کسی دشمن کی اُن کے خلاف مدد کی جائے گی۔کوئی غیر مؤمن مکہ کے لوگوں کو اپنے گھر میں پناہ نہیں دے گا نہ اُن کی جائداد اپنے پاس امانت رکھے گا اورنہ کافروں اور مؤمنوں کی لڑائی میں کسی قسم کی دخل اندازی کرے گا۔اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو ناجائز طور پر مار دے تو تمام مسلمان اُس کے خلاف متحدہ کوشش کریں گے۔اگر ایک مشرک دشمن مدینہ پر حملہ کرے تو یہودی مسلمانوں کا ساتھ دیں گے اور بحصۂ رسدی خرچ برداشت کریں گے۔یہودی قبائل جو مدینہ کے مختلف قبائل کے ساتھ معاہدہ کر چکے ہیں اُن کے حقوق مسلمانوں کے سے حقوق ہوں گے۔یہودی اپنے مذہب پر قائم رہیں گے اور مسلمان اپنے مذہب پر قائم رہیںگے۔جو حقوق یہودیوں کو ملیں گے وہی ان کے اتباع کو بھی ملیں گے۔مدینہ کے لوگوں میں سے کوئی شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر کوئی لڑائی شروع نہیں کرسکے گا لیکن اِس شرط کے ماتحت کوئی شخص اُس کے جائز انتقام سے محروم نہیں کیا جائے گا۔یہودی اپنی تنظیم میں سے اپنے اخراجات خود برداشت کریں گے اور مسلمان اپنے اخراجات خود برداشت کریں گے لیکن لڑائی کی صورت میں وہ دونوں مل کر کام کریںگے۔مدینہ اُن تمام لوگوں کے لئے جو اس معاہدہ میں شامل ہوتے ہیں ایک محترم جگہ ہوگی۔جو اجنبی کہ شہر کے لوگوں کی حمایت میں آجائیں اُن کے ساتھ بھی وہی سلوک ہو گا جو اصل باشد گانِ شہر کے ساتھ ہوگا۔لیکن مدینہ کے لوگو ںکو یہ اجازت نہ ہو گی کہ کسی عورت کو اُس کے رشتہ داروں