دیباچہ تفسیر القرآن — Page 212
آپ نے مجھ سے سختی کے ساتھ بات نہیں کی، کبھی جھڑکی نہیں دی، کبھی کسی ایسے کام کیلئے نہیں کہا جو میری طاقت سے باہر ہو۔۲۴۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامِ مدینہ کے ایام میں صرف اَنسؓ سے خدمت لینے کا موقع ملا اور اَنسؓ کی شہادت اِس بارہ میں آپ کے اخلاق پر نہایت تیز روشنی ڈالنے والی ہے۔مکہ سے اہل وعیال کو بُلوانا مسجد نبوی کی بنیاد رکھنا کچھ عرصہ کے بعد آپ نے اپنے آزاد کردہ غلام زیدؓ کو مکہ میںبھجوایا کہ وہ آپ کے اہل وعیال کو لے آئے۔چونکہ مکہ والے اِس اچانک ہجرت کی وجہ سے کچھ گھبراگئے تھے اِس لئے کچھ عرصہ تک مظالم کا سلسلہ بند رہا اور اسی گھبراہٹ کی وجہ سے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ کے خاندان کے مکہ چھوڑنے میں مزاحم نہیں ہوئے اور یہ لوگ خیریت سے مدینہ پہنچ گئے۔اِس عرصہ میں جو زمین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خریدی تھی سب سے پہلے وہاں آپ نے مسجد کی بنیاد رکھی۲۴۲؎ اور اس کے بعد اپنے لئے اور اپنے ساتھیوں کے لئے مکان بنوائے جس پر کوئی سات مہینے کا عرصہ لگا۔مدینہ کے مشرک قبائل کا اِسلام میں داخل ہونا مدینہ میں آپ کے داخلہ کے بعد چندہی دن میں مدینہ کے مشرک قبائل میں سے اکثر لوگ مسلمان ہو گئے، جو دل سے مسلمان نہ ہوئے تھے وہ ظاہری طور پر مسلمانوں میں شامل ہوگئے اور اس طرح پہلی دفعہ مسلمانوں میں منافقوں کی ایک جماعت قائم ہوئی جو بعد کے زمانہ میں کچھ تو سچے طور پر ایمان لے آئی اور کچھ ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف منصوبے اور سازشیں کرتی رہی۔کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو ظاہر میں بھی اِسلام نہ لائے مگر یہ لوگ مدینہ میں اِسلام کی شوکت کو برداشت نہ کر سکے اور مدینہ سے ہجرت کر کے مکہ چلے گئے۔اس طرح مدینہ دنیا کا پہلا شہرتھا جس میں خالصتہً خدائے واحد کی عبادت قائم کی گئی۔یقینا اُس وقت دنیا کے پردہ پر اس شہر کے سوا اور کوئی شہریا گائوں خالصتہً خدائے واحد کی عبادت کرنے والا نہیں تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ کتنی بڑی خوشی اور اُن کے ساتھیوں کی نگاہوں میں