دیباچہ تفسیر القرآن — Page 211
کی مگر آپ نے اِس خیال سے کہ ملنے والوں کو تکلیف ہو گی نچلی منزل پسند فرمائی۔انصار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے جو شدید محبت پیدا ہو گئی تھی، اُس کا مظاہرہ اِس موقع پر بھی ہوا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر حضر ت ابوایوبؓ مان تو گئے کہ آپ نچلی منزل میں ٹھہریں، لیکن ساری رات میاں بیوی اس خیال سے جاگتے رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے نیچے سو رہے ہیں پھر وہ کس طرح اِس بے ادبی کے مرتکب ہو سکتے ہیں کہ وہ چھت کے اوپر سوئیں۔رات کو ایک برتن پانی کا گر گیا تو اِس خیال سے کہ چھت کے نیچے پانی نہ ٹپک پڑے حضرت ایوبؓ نے دَوڑ کر اپنا لحاف اُس پانی پر ڈال کر پانی کی رطوبت کو خشک کیا۔صبح کے وقت پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارے حالات عرض کئے جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر جانا منظور فرما لیا۔حضرت ابوایوبؓ روزانہ کھانا تیار کرتے اور آپ کے پاس بجھواتے پھر جو آپ کا بچا ہو اکھانا آتا وہ سارا گھر کھاتا۔کچھ دنوں کے بعد اصرار کے ساتھ باقی انصار نے بھی مہمان نوازی میں اپنا حصہ طلب کیا اور جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے گھر کا انتظام نہ ہو گیا باری باری مدینہ کے مسلمان آپ کے گھر میں کھانا پہنچاتے رہے۔۲۴۰؎ حضرت اَنسؓ خادم آنحضرت ﷺکی شہادت مدینہ کی ایک بیوہ عورت کا ایک ہی لڑکا اَنسؓ نامی تھا۔اُس کی عمر آٹھ سال تھی وہ اُسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائیں اور کہا کہ یَارَسُوْلَ اللّٰہ! میرے اِس لڑکے کو اپنی خدمت کے لئے قبول فرمائیں۔وہ عورت اپنی محبت کی وجہ سے اپنے لڑکے کو قربانی کے لئے پیش کر رہی تھی لیکن اُسے کیا معلوم تھا کہ اُس کا لڑکا قربانی کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ کی زندگی کے لئے قبول کیا گیا۔اَنسؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اِسلام کے بہت بڑے عالم ہوئے اور آہستہ آہستہ بہت بڑے مالدار ہو گئے۔اُنہوں نے ایک سَوسال سے زیادہ عمر پائی اور اِسلامی بادشاہت میں بہت عزت کی نگاہ کے ساتھ دیکھے جاتے تھے۔اَنسؓ کا بیان ہے کہ میں نے چھوٹی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا اور آپ کی زندگی تک آپ کے ساتھ رہا کبھی