دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 195

دنیا سے بھگا دے اور اِس دنیا اور اگلی دنیا میں امن بخشے۔تیرا غصہ اور تیری غیرت مجھ پر نہ بھڑکیں۔تو اگر ناراض بھی ہوتا ہے تو اس لئے کہ پھر خوشی کا اظہار کرے اور تیرے سوا کوئی حقیقی طاقت اور کوئی حقیقی پناہ کی جگہ نہیں۔یہ دعا مانگ کر آپ مکہ کی طرف روانہ ہوئے لیکن درمیان میں نخلہ نامی مقام پر ٹھہر گئے۔چند دن وہاں سستا کر پھر آپ مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔لیکن عرب کے دستور کے مطابق لڑائی کی وجہ سے مکہ چھوڑدینے کے بعد آپ مکہ کے باشندے نہیں رہے تھے اب مکہ والوں کا اختیار تھا کہ وہ آپ کومکہ میں آنے دیتے یا نہ آتے دیتے اس لئے آپ نے مکہ کے ایک رئیس مطعم بن عدی کو کہلا بھیجا کہ میں مکہ میں داخل ہونا چاہتا ہوں کیا تم عرب کے دستور کے مطابق مجھے داخلہ کی اجازت دیتے ہو؟ مطعم باوجود شدید دشمن ہونے کے ایک شریف الطبع انسان تھا اُس نے اُسی وقت اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں کو ساتھ لیا اور مسلح ہو کر کعبہ کے صحن میں جا کھڑا ہوا اور آپ کو پیغام بھیجا کہ وہ مکہ میں آپ کو آنے کی اجازت دیتا ہے۔آپ مکہ میں داخل ہوئے کعبہ کا طواف کیا اور مطعم اپنی اولاد اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ تلواریں کھینچے ہوئے آپ کو آپ کے گھر تک پہنچانے کے لئے آیا۔۲۱۸؎ یہ پناہ نہیں تھی کیو نکہ اس کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم ہوتے رہے اور مطعم نے کوئی حفاظت آپ کی نہیں کی بلکہ یہ صرف مکہ میں داخلہ کی قانونی اجازت تھی۔آپ کے اِس سفر کے متعلق دشمنوں کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑا ہے کہ اِس سفر میں آپ نے بے نظیر قربانی اور استقلال کا نمونہ دکھایا ہے۔سرولیم میور اپنی کتاب ’’لائف آفمحمد‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے طائف کے سفر میں ایک شاندار اور شجاعانہ رنگ پایا جاتا ہے۔اکیلا آدمی جس کی اپنی قوم نے اُس کو حقارت کی نگاہ سے دیکھااور اُسے دھتکار دیا خد اکے نام پر بہادری کے ساتھ نینوا کے یوناہ نبی کی طرح ایک بت پرست شہر کو توبہ کی اورخدائی مشن کی دعوت دینے کے لئے نکلا۔یہ امر اُس کے اِ س ایمان پر کہ وہ اپنے آپ کو کلی طور پر خد اکی طرف سے سمجھتا تھا ایک بہت تیز روشنی ڈالتا ہے‘‘۔۲۱۹؎ مکہ نے پھر ایذاء دہی اور استہزاء کے دروازے کھول دئیے۔پھر خد اکے نبی کے لئے اُس