دیباچہ تفسیر القرآن — Page 177
کی طرف ہجرت کر گئے تو آپ کے بعد صہیبؓ نے بھی چاہا کہ وہ بھی ہجرت کر کے مدینہ چلے جائیں مگر مکہ کے لوگوں نے اُن کو روکا اور کہا کہ جو دولت تم نے مکہ میں کمائی ہے تم اُسے مکہ سے باہر کس طرح لے جا سکتے ہو ہم تمہیں مکہ سے جانے نہیں دیں گے۔صہیبؓ نے کہا اگر میں یہ سب کی سب دولت چھوڑ دوں تو کیا پھر تم مجھے جانے دو گے؟ وہ اِس بات پر رضا مند ہو گئے اور آپ اپنی ساری دولت مکہ والوں کے سپرد کر کے خالی ہاتھ مدینہ چلے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ نے فرمایا۔صہیبؓ! تمہارا یہ سَودا سب پہلے سَودوں سے نفع مند رہا۔یعنی پہلے اسباب کے مقابلہ میں تم روپیہ حاصل کیا کرتے تھے مگر اب روپیہ کے مقابلہ میں تم نے ایمان حاصل کیا ہے۔اِن غلاموں میں اکثر تو ظاہر و باطن میں مستقل رہے، لیکن بعض سے ظاہر میں کمزوریاں بھی ظاہر ہوئیں۔چنانچہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمارؓ نامی غلام کے پاس سے گزرے تو دیکھا کہ وہ سسکیاں لے رہے تھے اور آنکھیں پونچھ رہے تھے۔آپ نے پوچھا عمار! کیا معاملہ ہے؟ عمار نے کہا اے اللہ کے رسول! بہت ہی بُرا۔وہ مجھے مارتے گئے اور دکھ دیتے گئے اور اُس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک میرے منہ سے آپ کے خلاف اور دیوتائوں کی تائید میں کلمات نہیں نکلوا لئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا لیکن تم اپنے دل میں کیا محسوس کر تے تھے؟ عمار نے کہا دل میں تو ایک غیر متزلزل ایمان محسوس کرتا تھا۔آپ نے فرمایا اگر دل ایمان پر مطمئن تھا تو خدا تعالیٰ تمہاری کمزوری کو معاف کر دے گا۔۱۹۷؎ آپ کے والد یاسرؓ اور آپ کی والدہ سمیہؓ کو بھی کفّار بہت دکھ دیتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ جبکہ اُن دونوں کو دکھ دیا جا رہا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے پاس سے گزرے۔آپ نے اُن دونوں کی تکلیفوں کو دیکھا اور آپ کا دل درد سے بھر آیا۔آپ اُن سے مخاطب ہو کر بولے صَبْراً اٰلَ یَاسِر فَاِنَّ مَوْعِدَ کُمُ الْجَنَّۃَ۔۱۹۸؎ اے یاسر کے خاندان! صبر سے کام لو۔خدا نے تمہارے لئے جنت تیار کر چھوڑی ہے۔اور یہ پیشگوئی تھوڑے ہی دنوںمیں پوری ہو گئی کیونکہ یاسرؓ مار کھاتے کھاتے مر گئے مگر اِس پر بھی کفّار کو صبر نہ آیا اور اُنہوں نے اُن کی بڑھیا بیوی سمیہؓ پر ظلم جاری رکھے۔چنانچہ ابوجہل نے ایک دن غصہ میں اُن کی ران پر زور