دیباچہ تفسیر القرآن — Page 176
سے باہر لے جا کر تپتی ہوئی ریت پر ننگا کر کے لٹا دیتا تھا اور بڑے بڑے گرم پتھر اُن کے سینہ پر رکھ کر کہتا تھا کہ لات اور عزیٰ کی الوہیت کو تسلیم کر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) سے علیحدگی کا اظہار کر۔بلالؓ اُس کے جواب میں کہتے اَحَدٌ اَحَدٌ ۱۹۶؎ یعنی ا للہ ایک ہی ہے اللہ ایک ہی ہے۔بار بار آپ کا یہ جواب سن کر اُمیہ کو اَور غصہ آجاتا اور وہ آپ کے گلے میں رسہ ڈال کر شریر لڑکوں کے حوالے کر دیتا اور کہتا کہ ان کو مکہ کی گلیوں میں پتھروں کے اُوپر سے گھسیٹتے ہوئے لے جائیں۔جس کی وجہ سے اُن کا بدن خون سے تربتر ہوجاتا مگر وہ پھر بھی اَحَدٌ اَحَدٌ کہتے چلے جاتے ، یعنی خدا ایک خدایک۔عرصہ کے بعد جب خد اتعالیٰ نے مسلمانوں کو مدینہ میں امن دیا جب وہ آزادی سے عبادت کرنے کے قابل ہو گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلالؓ کو اذان دینے کے لئے مقرر کیا۔یہ حبشی غلام جب اذان میں اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہ کی بجائے اَسْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ کہتا تو مدینہ کے لوگ جو اُس کے حالات سے ناواقف تھے ہنسنے لگ جاتے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلالؓ کی اذان پر ہنستے ہوئے پایا تو آپ لوگوں کی طرف مڑے اور کہا تم بلالؓ کی اذان پر ہنستے ہو مگر خد اتعالیٰ عرش پر اُس کی اذان سن کر خوش ہوتا ہے۔آپ کا اشارہ اِسی طرف تھا کہ تمہیں تو یہ نظر آتا ہے کہ یہ ’’ش‘‘ نہیں بول سکتا۔مگر ’’ش‘‘ اور ’’س‘‘ میں کیا رکھا ہے خد اتعالیٰ جانتا ہے کہ جب تپتی ریت پر ننگی پیٹھ کے ساتھ اِس کو لٹا دیا جاتا تھا اور اس کے سینہ پر ظالم اپنی جوتیوں سمیت کودا کرتے تھے اور پوچھتے تھے کہ کیا اب بھی سبق آیا ہے یا نہیں؟ تو یہ اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں اَحَدٌ اَحَدٌ کہہ کر خد اتعالیٰ کی توحید کا اعلان کرتا رہتا تھا اور اپنی وفاداری ، اپنے توحید کے عقیدہ اور اپنے دل کی مضبوطی کا ثبوت دیتا تھا۔پس اُس کا اَسْھَدُ بہت سے لوگوں کے اَشْھَدُ سے زیادہ قیمتی تھا۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب اُن پر یہ ظلم دیکھے تو اُن کے مالک کو اُن کی قیمت ادا کر کے اُنہیں آزاد کروا دیا۔اسی طرح اور بہت سے غلاموں کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے مال سے آزاد کرایا۔اِ ن غلاموں میں سے صہیبؓ ایک مالدار آدمی تھے۔یہ تجارت کرتے تھے اور مکہ کے باحیثیت آدمیوں میں سمجھے جاتے تھے مگر باوجود اس کے کہ وہ مالدار بھی تھے اور آزاد بھی ہو چکے تھے قریش اُن کو مار مار کر بیہوش کر دیتے تھے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ