دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 175

دے رہا تھا۔اسلام ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین بناتا ہوا نظر آتا تھا۔جس نئے آسمان اور زمین کے ہوتے ہوئے عرب کا پُرانا آسمان اور پُرانی زمین قائم نہیں رہ سکتے تھے۔اب یہ سوال مکہ والوں کے لئے ہنسی کا سوال نہیں رہا تھا اب یہ زندگی اور موت کا سوال تھا۔اُنہوں نے اسلام کے چیلنج کو قبول کیا اور اُسی روح کے ساتھ قبول کیا جس روح کے ساتھ نبیوں کے دشمن نبیوں کے چیلنج کو قبول کرتے چلے آئے تھے اور وہ دلیل کا جواب دلیل سے نہیں بلکہ تلوار اور تیرکے ساتھ دینے پر آمادہ ہو گئے۔اسلا م کی خیر خواہی کا جواب ویسے ہی بلند اخلاق کے ذریعہ سے نہیں بلکہ گالی گلوچ اور بد کلامی سے دینے کا اُنہو ں نے فیصلہ کر لیا۔ایک دفعہ پھر دنیا میں کفر اور اسلام کی لڑائی شروع ہوگئی۔ایک دفعہ پھر شیطان کے لشکروں نے فرشتوں پر ہلّہ بول دیا۔بھلا اُن مٹھی بھر آدمیوں کی طاقت ہی کیا تھی کہ مکہ والوں کے سامنے ٹھہر سکیں۔عورتیں بے شرمانہ طریقوں سے قتل کی گئیں۔مرد ٹانگیں چیر چیر کر مار ڈالے گئے، غلام تپتی ہوئی ریت اور کھردرے پتھروں پر گھسیٹے گئے۔اِس حد تک کہ اُن کے چمڑے انسانی چمڑوں کی شکلیں بدل کر حیوانی چمڑے بن گئے۔ایک مدت بعد اسلام کی فتح کے زمانہ میں جب اسلام کا جھنڈا مشرق و مغرب میں لہرا رہا تھا ایک دفعہ ایک ابتدائی نو مسلم غلام خبابؓ کی پیٹھ ننگی ہوئی تو اُن کے ساتھیوں نے دیکھا کہ اُن کی پیٹھ کا چمڑا انسانوں جیسا نہیں جانوروں جیسا ہے وہ گھبرا گئے اور اُن سے دریافت کیا کہ آپ کو یہ کیا بیماری ہے؟ وہ ہنسے اور کہا بیماری نہیں یہ یاد گار ہے اُس وقت کی جب ہم نو مسلم غلاموں کو عرب کے لوگ مکہ کی گلیوں میں سخت اور کھردرے پتھروں پر گھسیٹا کرتے تھے اور متواتر یہ ظلم ہم پر روا رکھے جاتے تھے اُسی کے نتیجہ میں میری پیٹھ کا چمڑہ یہ شکل اختیار کر گیا ہے۔مؤمن غلاموں پر کفّارِ مکہ کا ظلم و ستم یہ غلام جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے مختلف اقوام کے تھے اِن میں حبشی بھی تھے جیسے بلالؓ ، رومی بھی تھے جیسے صہیبؓ۔پھر اُن میں عیسائی بھی تھے جیسے جبیرؓ اور صہیبؓ۔اور مشرکین بھی تھے جیسے بلالؓ اور عمارؓ۔بلالؓ کو اُس کے مالک تپتی ریت پر لٹا کر اوپر یا تو پتھر رکھ دیتے یا نوجوانوں کو سینہ پر کودنے کے لئے مقرر کر دیتے۔حبشی النسل بلالؓ اُمیہ بن خلف نامی ایک مکی رئیس کے غلام تھے۔اُمیہ اُنہیں دوپہر کے وقت گرمی کے موسم میں مکہ