دیباچہ تفسیر القرآن — Page 5
علماء نے بائبل کی بجائے اپنی روایات کی کتب سے انہیں مضمون بتا دئیے اور بعض دفعہ ان کی ناواقفیت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ان سے تمسخر کیا۔بیشک ان پر اعتبار کر کے ان مفسرین نے سادگی اور بے احتیاطی کا اظہار کیا لیکن اُس بات سے اُس زمانہ کے یہودی اور مسیحی علماء کی دیانت اور اُن کے تقویٰ پر جو زَد پڑتی ہے وہ بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔پس موجودہ مغربی مصنفین کو قرآن کریم کے مفسرین پر ہنسی اُڑانے کی بجائے خود اپنے آباء کی دیانت پر ماتم کرنا چاہئے۔اب جبکہ بائبل کے علوم ہر کس و ناکس کے لئے ظاہر ہو گئے ہیں اور عبرانی،لاطینی اوریونانی کتب بھی مسلم علماء کی دسترس میں ہیں اس لیے موقع پیدا ہو گیا ہے کہ نئے رنگ میں ان مضامین پر روشنی ڈالی جائے جو قرآن کریم میں موسوی سلسلہ اور بائبل کے متعلق بیان ہوئے ہیں۔(۶) پرانے زمانہ میں مختلف مذاہب کے درمیان اعمال کے متعلق تعلیمی برتری کا مقابلہ بہت کم تھا، بلکہ رسم ورواج اور عقائد کی بحث تک علماء کی گفتگو محدود رہتی تھی۔اس وجہ سے قرآن کریم کی وہ تعلیم جو اخلاقی، تعلیمی، اقتصادی، سیاسی اور تعامل باہمی کے امور کے متعلق تھی زیربحث نہ آتی تھی۔آج دنیا کی توجہ ان امور کی طرف زیادہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے قرآن کریم کی ایسی تفسیر پیش کی جائے جس میں ان اُمور کے متعلق جو اس کی تعلیم ہے اس پر زیادہ روشنی ڈالی جائے۔(۷) قرآن کریم چونکہ الہامی کتاب ہے اس میں آئندہ زمانہ کی پیشگوئیاں بھی ہیں۔جن کے متعلق صحیح روشنی اُسی وقت ڈالی جا سکتی ہے جبکہ وہ پوری ہو چکی ہوں۔اس لئے بھی ضروری تھا کہ اِس زمانہ میں نئی تفسیر پیش کی جائے جو اِس وقت پوری ہوچکنے والی پیشگوئیوں کو ظاہر کرے۔(۸) قرآن کریم کی تعلیم سب مذاہب اور فلسفوں پرحاوی ہے اور وہ سب مذاہب کی اچھی تعلیموں پر مشتمل ہونے کے علاوہ ناقص کا نقص بھی ظاہر کرتی ہے اور نا مکمل کو مکمل بھی کرتی ہے۔ابتدائی زمانۂ اسلام کے مفسرین کو چونکہ ان مذاہب اور ان فلسفوں کا علم نہ تھا وہ ان کے متعلق قرآنی تعلیم کو صحیح طور پر اخذ نہیں کر سکے۔اب وہ سب پوشیدہ علوم ظاہر ہو چکے