دیباچہ تفسیر القرآن — Page 153
انہوں نے نہ تو اُس کو تلوار سے مارا اور نہ صلیب پر لٹکاکر مارا۔صرف اُن کو ایک شبہ پیدا ہوگیا کہ وہ صلیب پر مرگیا ہے مگر یہ صرف شبہ تھا اُنہیں ایسا یقین نہ تھا۔چنانچہ خود اُن کی قوم میں یہ اختلاف چلا آیا ہے اور وہ اس کے بارے میں کسی یقینی بات پر قائم نہیں۔اُن کو اِس بات کا علم حاصل نہیں بلکہ صرف تخمینی طور پر یہ بات کہتے ہیں اور یہ قطعی بات ہے کہ وہ اُسے مارنے میں کامیاب نہیں ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اُس کو صلیب کی لعنتی موت سے بچا کر اپنے مقربوں میں جگہ دی۔اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔ہراہل کتاب اپنی موت سے پہلے پہلے اس کے متعلق ایمان ظاہر کرتا رہے گاکہ وہ صلیب پر مرگیا ہے۔لیکن قیامت کے دن مسیح اُن کے اوپر گواہی دے گا کہ انہوں نے اس پر یہ الزام لگا کر کہ وہ صلیب پر مرگیا ہے افتراء کیا ہے۔پس یہودیوں کے ان ظلموں کی وجہ سے ہم نے اُن آسمانی نعمتوں سے ان کو محروم کردیا جو پہلے اُن کا حق سمجھی جاتی تھیں۔اِن آیات میں کس طرح حضرت مسیح کے منکروں پر حجت تمام کی گئی ہے۔دوسری بات یہ فرمائی گئی تھی کہ وہ مسیح کی وفات ثابت کرے گا اور دنیا کو بتا دے گا کہ دنیا پھر اسرائیلی مسیح کو نہیں دیکھے گی۔یہ کام بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور اس غلط عقیدہ کو باطل کرکے رکھ دیا جو عیسائیوں میں پھیلا ہوا تھا کہ مسیح آسمان پر بیٹھا ہوا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۱۸۰؎ ان آیات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت مسیح سے سوال کرے گا کہ کیا تُو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو معبود بناؤ؟ حضرت مسیح فرمائیں گے اے ربّ! تیری ذات پاک ہے بھلا میں ایسا کرسکتا تھا کہ وہ بات کہوں جس کا تونے مجھے حق نہیں دیا۔اگر