دیباچہ تفسیر القرآن — Page 141
چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اعلان فرماتے ہیں کہ خد اتعالیٰ نے میری اُمت کا نام مسلم اور میرے مذہب کا نام اِسلام رکھا ہے۔چھٹی پیشگوئی دانیال نبی کی کتاب کے دوسرے باب میں ایک خواب لکھی ہے جو نبو کدنضر بادشاہ نے دیکھی تھی۔لیکن وہ اُسے دیکھنے کے بعد بھول گیا۔تب اُس نے اپنے وقت کے حکیموں سے خواب اور اُس کی تعبیر دریافت کی۔باقی لوگ تو نہ بتا سکے دانیال نے خدا تعالیٰ سے دعا کر کے وہ خواب معلوم کر لی اور بادشاہ کے سامنے بیان کی وہ خواب یہ تھی۔’’ تُو نے اے بادشاہ! نظر کی تھی اور دیکھ ایک بڑی مورت تھی۔وہ بڑی مورت جس کی رونق بے نہایت تھی تیرے سامنے کھڑی ہوئی اور اُس کی صورت ہیبت ناک تھی۔اُس مورت کا سرخالص سونے کا تھا۔اُس کا سینہ اور اُس کے بازو چاندی کے۔اُس کا شکم اور رانیں تابنے کی تھیں۔اُس کی ٹانگیں لوہے کی اور اُس کے پائوں کچھ لوہے کے اور کچھ مٹی کے تھے اور تُو اُسے دیکھتا رہا یہاں تک کہ ایک پتھر بغیر اس کے کوئی ہاتھ سے کاٹ کے نکالے آپ سے آپ نکلا جو اس شکل کے پائوں پر جو لوہے اور مٹی کے تھے لگا اور اُنہیں ٹکڑے ٹکڑے کیا۔تب لوہا اور مٹی اور تانبا اور چاندی اور سونا ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور تابستانی کھلیان کی بھوسی کی مانند ہوئے اور ہوا اُنہیں اُڑالے گئی یہاں تک کہ اُن کا پتہ نہ ملا اور وہ پتھر جس نے اُس مورت کو مارا ایک بڑا پہاڑ بن گیا اور تمام زمین کو بھر دیا‘‘۔۱۶۸؎ اِس کی تعبیر دانیال نبی نے جو کی وہ یہ ہے:۔’’ تُو اے بادشاہ! بادشاہوں کا بادشاہ ہے اس لئے کہ آسمان کے خدا نے تجھے ایک بادشاہت اور توانائی اور قوت اور شوکت بخشی ہے اور جہاں کہیں بنی آدم سکونت کرتے ہیں اُس نے میدان کے چوپائے اور ہوا کے پرندے تیرے قابو میں کر دئیے اور تجھے اُن سبھوں کا حاکم کیا۔تُو ہی وہ سونے کا سرہے اورتیرے بعد ایک اور سلطنت برپا ہوگی جو تجھ سے چھوٹی ہو گی اور اُس کے بعد ایک اور سلطنت تانبے کی جو