دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 125

پیش آئیں اور تیروں اور کمانوں سے اُنہوں نے کام لیا۔اُن کے گھوڑے چقماق کی طرح ہو گئے اور اُن کے پہییٔ گرد باد۱۴۰؎ کی مانند جس کی طرف خود قرآن کریم میں اشارہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۱۴۱؎ یعنی ہم قسم کھاتے ہیں اُن اسپ سواروں کی جو تیزی سے دشمن پر حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھتے ہیں ایسی تیزی سے کہ اُن کے گھوڑوں کے ٹاپوں سے آگ نکلنے لگتی ہے اور اُن کے حملہ سے گردو غبار کا ایک طوفان اُٹھ پڑتا ہے اور وہ ایسی شان اور طاقت کے ساتھ اپنے دشمن کی صفوں میں گھس کر اُسے مغلوب کر لیتے ہیں۔کس طرح لفظ بلفظ اس پیشگوئی کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے۔پھر یہ جو اِس پیشگوئی میں کہا ہے کہ ’’ وہ زمین کی طرف تاکیں گے اور کیا دیکھتے ہیںکہ اندھیرا اور تنگ حالی ہے اور روشنی اس کی بدلیوں سے تاریک ہو جاتی ہے‘‘۔اِسی کی طرف قرآن کریم میں اِن الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ۱۴۲؎ تمام دنیا میں خشکی اور تری میں فساد اور خرابی پیدا ہو گئی ہے اور خدا تعالیٰ کے ایک مامور کے ظاہر ہونے کی ضرورت ہے۔اسی طرح فرماتا ہے۔ ۱۴۳؎ یہ خدا کا رسول اس لئے آیا ہے کہ دنیا سب کی سب تاریکی میں پڑی ہے اور وہ اس کو تاریکی سے نکال کر نور کی طرف لے جاتا ہے۔(ج) یسعیاہ باب ۸ میں لکھا ہے:۔’’ ربُّ الافواج جو کہے تم اُس کی تقدیس کرو اور اُس سے ڈرتے رہو اور اس کی ہی دہشت رکھو۔وہ تمہارے لئے ایک مقدس ہو گا۔پر اسرائیل کے دونوں گھرانوں کے لئے ٹکر کا پتھر اور ٹھوکر کھانے کی چٹان اور یروشلم کے باشندو ں کے لئے پھندا اور دام ہووے گا۔بہت لوگ اُن سے ٹھوکر کھائیں گے اور گریں گے اورٹوٹ جائیں گے اور دام میں پھنسیں گے اور پکڑے جائیں گے۔شہادت نامہ بند کر لو اور میرے