دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 124

دُور کسی جگہ پر ایک جھنڈا کھڑا کرے گا اور اس جھنڈے والا دنیا کی مختلف قوموں کو بلائے گا اور وہ جلدی سے دَوڑ کر اُس کے پا س جمع ہو جائیںگی۔وہ لوگ بڑی بڑی قربانیاں کرنے والے ہوںگے اور غفلت اور سستی سے محفوظ ہوںگے۔اُنہیں لڑائیاں کرنی پڑیں گی۔اُن کے گھوڑوں کے سموں سے آگ نکلے گی اور جب وہ حملہ کرنے کے لئے چلیں گے تو ہوا میں گرداُڑے گی۔وہ اپنے شکار پر غالب آجائیں گے اور اُن کے شکار کو کوئی بچانے والا نہیں ہو گا۔وہ ایسا کیوں کریں گے؟ اس لئے کہ وہ دیکھیں گے کہ ز مین میں تاریکی اور ظلمت پھیلی ہوئی ہے اور لوگ ایک عظیم الشان انقلاب کے محتاج ہیں۔یہ پیشگوئی کُلّی طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ صرف چسپاں ہوتی ہے بلکہ قرآن کریم میں اِس پیشگوئی کے مطابق فلسطین سے دُور یعنی مکہ میں آپ ظاہر ہوئے اور آپ کا جھنڈا مدینہ میں کھڑا کیا گیا۔آپ ہی تھے جنہوں نے قرآنی الفاظ میں یہ اعلان کیا۱۳۷؎ اے انسانو! میں تما م لوگوں کی طرف خدا کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔آپ ہی کی آواز پر چاروں طرف سے لوگ دَوڑنے لگ گئے اور جلد جلد آپ کے گرد جمع ہو گئے۔مسیح کی زندگی میں تو ایک شخص بھی غیرقوموں میں سے اُس پر ایمان نہیں لایا تھا۔اُس کے سارے کے سارے حواری چالیس پچاس میل کے حلقہ کے اندر رہنے والے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر یمن کے رہنے والے اور نجد کے رہنے والے یہودیوں میں سے بھی اور ایرانیوں میں سے بھی اور عیسائیوں میں سے بھی ایمان لائے اور آپ کے گرد جمع ہو گئے اور اِس پیشگوئی کے مطابق اُنہوں نے ایسی قربانیاں اور اَن تھک کو ششیں کیں کہ دشمن سے دشمن بھی اُن کی قربانیوں کی تعریف کئے بغیر نہیں رہتا اور خدا تعالیٰ نے بھی اپنے کلام میں اُن کی نسبت فرمایا ہے ۱۳۸؎ اُنہوںنے ایسی قربانیاں کیں کہ خد اُن سے راضی ہو گیا اور وہ خدا سے راضی ہو گئے۔اور پھر قرآن کریم میں اُن کا یوں ذکر بھی آتا ہے کہ ۱۳۹؎ کچھ وہ ہیں جنہوں نے اپنے عہد پورے کر دئیے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو اپنے عہد کے پورا کرنے کے انتظار میں ہیں۔پھر اُن کو جنگیں بھی