دیباچہ تفسیر القرآن — Page 123
نیمتیں ملیں گی اور اُس کی قوم کے لوگ مقدس کہلائیں گے اور اُس کے زمانہ میں کثرتِ ازدواج کی ضرورت ہوگی۔کیا یہ باتیں مسیح اور اُس کے حواریوں پر چسپاں ہوتی ہیں؟ کیا مسیح کا زمانہ شوکت اور حشمت والا تھایا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ شوکت اور حشمت والا تھا؟ کیا دنیا کی غنیمتیں مسیح اور اُس کے حواریوں کو ملیں یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے صحابہ کو؟ کیا مسیح کے زمانہ میں کثرتِ ازدواج کی ضرورت پیش آئی یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں؟ مسیح نے تو کثرتِ ازدواج کو ناپسند کیا ہے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرتِ ازدواج کو مناسب حالات میں جائز بلکہ پسندیدہ کہا ہے۔آپ ہی کے زمانہ میں لڑائیاں ہوئیں اور لڑائیوں میں جوان آدمی مارے گئے اور عورتیں یا بیوہ ہو گئیں یا جوان عورتوں کے لئے رشتے میسر نہ آئے۔پس آپ نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ ایسی صورت میں مردوں کا فرض ہے کہ ایک سے زیادہ عورتوںسے شادیاں کریں تاکہ قوم میں بدکاری اور آوارہ گردی پیدا نہ ہو۔(ب) یسعیاہ نبی اپنی کتاب کے باب ۵ میں پیشگوئی فرماتے ہیں:۔’’ وہ قوموں کے لئے دُور سے ایک جھنڈا کھڑا کرتا ہے اور اُنہیں زمین کی اشیاء سے سیٹی بجا کے بلاتا ہے اور دیکھ وے دَوڑ کے جلد آتے ہیں۔کوئی اُن میں نہ تھک جاتا اور نہ پھسل پڑتا ہے۔وے نہیں اُونگھتے اور نہیںسوتے۔اُن کا کمر بند کھلتا نہیں ہے اور نہ اُن کی جوتیوں کا تسمہ ٹوٹتا ہے۔اُن کے تیر تیز ہیں اور اُن کی ساری کمانیں کشیدہ ہیں۔اُن کے گھوڑوں کے سم چقماق کے پتھر کی مانند ٹھہرتے اور اُن کے پہیے گرد باد کی مانند وے شیرنی کی مانند گرجتے ہیں۔ہاں وے جوان شیروں کی مانند گرجتے ہیں وے غراتے اور شکار پکڑتے اور اُسے بے روک ٹوک لے جاتے ہیں اور کوئی بچانے والا نہیں اور اُس دن اُن پر ایسا شور مچائیں گے جیسا سمندر کا شور ہوتا ہے اور یہ زمین کی طرف تاکیں گے اور کیا دیکھتے ہیں کہ اندھیرا اور تنگ حالی ہے اور روشنی اُس کی بدیو ں سے تاریک ہو جاتی ہے‘‘۔۱۳۶؎ اِس پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک زمانہ میں تمام قوموں کے لئے فلسطین سے