دیباچہ تفسیر القرآن — Page 112
کی وہ پیشگوئیاں اُن کے ذریعہ پوری ہوئیں جو بنو اسمٰعیل کے متعلق تھیں۔تاریخ کا سب سے بڑا ثبوت قومی روایات ہی ہوتی ہیں اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ ایک قوم سینکڑوں سال سے اپنے آپ کو بنو اسمٰعیل کہتی چلی آئی ہے اور اُس کے بیان کو مزید تقویت اِس بات سے یہ حاصل ہوتی ہے کہ دنیا کی اور کوئی قوم اپنے آپ کو بنو اسمٰعیل نہیں کہتی۔پھر جہاں بائبل مانتی ہے کہ بنو اسمٰعیل فاران میں رہے وہاں عرب کے لوگ بھی مکہ سے لے کر شمالی عرب کی سرحد تک کے علاقہ کو فاران کہتے چلے آرہے ہیں۔پس یقینا یہی علاقہ فاران تھا جیسا کہ یقینا قریش ہی بنو اسمٰعیل تھے اور فاران سے ظاہر ہونے والا جلوہ عربوں سے ہی ظاہر ہونے والا تھا۔بنو اسمٰعیل کے عرب میں رہنے کا یہ بھی ثبوت ہے کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے ۱۲ بیٹوں کے نام جو بائبل میں آتے ہیں یہ ہیں۔نبیت۔قیدار۔اوبئیل۔مبسام۔مشماع۔دُومہ۔مسا۔حدد۔تیما۔یطور۔نفیس۔قدمہ۔۱۲۵؎ قدیم رواج کے مطابق اِن کی اولادوں کے نام بھی اپنے باپوں پر ہوں گے جیسا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد اپنے باپوں کے نام سے کہلاتی ہے اِسی طرح ملکوں کے نام بھی پُرانے دستور کے مطابق بِالعموم قوموں کے نام پر رکھے جاتے ہیں۔اِس رواج کو مدنظر رکھتے ہوئے جب ہم دیکھتے ہیںتو سارے عرب میں اِن بیٹوں کی اولاد پھیلی ہوئی نظر آتی ہے۔پہلا بیٹا نبیت تھا جس کی اولاد جغرافیہ نویسوں کے بیان کے مطابق ۳۰۔۳۸ ڈگری عرضِ شمالی اور ۳۶۔۳۸ ڈگری طول مشرقی کے درمیان رہی تھی۔چنانچہ ریورنڈ کاتری بی کاری ایم اے نے اِس کو تسلیم کیا ہے کہ اُن کے نزدیک فلسطین سے لے کر بندر ینبوع تک جو مدینہ منورہ کا بندر ہے یہ قوم پھیلی ہوئی تھی۔دوسرا بیٹا قیدار تھا۔اِس کی قوم بھی عربوں میں پائی جاتی ہے۔قیدار کے معنی ہیں ’’اونٹوں والا‘‘ یہ قبیلہ حجاز اور مدینہ کے درمیان آباد ہے۔بطلیموس اور پلینی دونوں نے اپنے جغرافیوں میں حجاز کی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے کیڈری اور گڈرونائینی قوموں کا ذکر کیا ہے جو صاف طور پر قیدار ہی کا بگڑا ہو اہے تلفظ ہے اور اب تک بعض عرب اپنے