دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 92

تیل اور دوسری چیزیں چھڑکنے کے معنی کیا ہوئے؟ اور ان چیزوں کو آگ کی خوراک قرار دینے کے کیا معنی ہوئے؟ اگر یہ صفاتِ الٰہیہ ہیں تو پھر ظاہر میں آگ جلا کر اُن پر تیل وغیرہ چھڑکنامحض ایک وہم ہے اور اگر یہ چیزیں دیوتا تسلیم کی گئی ہیںتو اُن کا دیوتا تسلیم کرنا خود ایک وہم ہے۔بہرحال کوئی معنی لے لئے جائیں وہم ہی کی تعلیم اس سے نکلتی ہے۔اِ سی طرح رگوید کی دوسری کتاب کے گیارہویں ادھیائے کے گیارہویں شلوک میں لکھا ہے: ’’ او اِندر! تُو سوم پی اور یہ خوشی دینے والا رس تجھے خوشی پہنچائے‘‘۔اب اِندریا تو فرشتوں کا نام قرار دیا جا سکتا ہے یاخدا تعالیٰ کا۔اگر یہ خدا تعالیٰ کا نام ہے تب بھی سوم کا رس خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرنا ایک نہایت ہی ادنیٰ قسم کا وہم ہے۔اور اگر اِندر کسی فرشتے یا اور کسی روح کا نام ہے تب بھی اُس کے آگے سوم کارس پیش کرنا ایک نہایت ہی ادنیٰ وہم ہے کیونکہ خد اتعالیٰ کی ہستی وراء الورا ہے اور اُس کے فرشتے روحانی وجود ہیںاُن کے لئے کسی شربت کے پینے یا پلانے کا خیال کرنا بھی ایک نہایت ہی مضحکہ خیز خیال ہے۔پھر اِسی ادھیائے کے پندرھویں منتر میںلکھا ہے۔’’ او اِندر ! تو سوم کا رس پی تاکہ تجھے طاقت اور خوشی آئے‘‘۔خدا تعالیٰ یا اُس کے فرشتوں کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ سوم کا رس اُن کو طاقت بخشتا ہے یہ بھی کتنا مضحکہ انگیز خیال ہے۔یہ ایک دومنتر نہیں بلکہ سینکڑوں منترویدں میں ایسے پائے جاتے ہیں جو اس قسم کی وہم والی تعلیمیں پیش کرتے ہیں۔دیوتائوں کا آسمانوں پر کبھی بادلوں پر سواری کر نا اور کبھی رتھوں پر چڑھنا یہ اور اِسی قسم کے بہت سے خیالات ویدوں میں بھرے ہوئے ہیں۔ویدوں کی خلافِ اخلاق تعلیم ویدوں میں بہت سی خلافِ اخلاق تعلیم بھی ہے، لیکن وہ اتنی عریاں ہے کہ تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کی جا سکتی۔اس میں شہوانی قوتوں اور شہوانی اعضاء کے متعلق ایسی ایسی باتیں بیان کی گئی ہیں کہ جو اس عریانی کے ساتھ طب کی کتابوں میں بھی لکھنی جائز نہیں۔اِن تمام وجوہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ وید جس کے بہت سے حصے اِس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئے ہوں گے ا ِن میں انسانوں نے ایسی تعلیمیں ملا دی ہیں کہ جن کی بناء پر اب وہ قابل عمل نہیں رہے اور یقینا اِس خرابی کے بعد جو ویدوں میں آج