دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 484

ظہور مسیح موعود علیہ السلام قرآن کریم کی صداقت کا یہ ایک زبردست ثبوت ہے کہ اُس کی پیشگوئیوں کے عین مطابق اِس زمانہ میں ایکشخص نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ قرآن شریف اور دوسری کتب سماوی کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والا ہے اور رسول کریم ﷺکا کامل بروز ہے اور آپ کے دین کو قائم کرنے اور قرآن شریف کی تعلیم کو روشن کرنے کیلئے خدا تعالیٰ نے اُسے مبعوث فرمایا ہے (ان پیشگوئیوں کا ذکر قرآن کریم کی متعدد سورتوں میں اپنے اپنے مقام پر کیا گیا ہے۔خصوصاً قرآن کریم کی آخری سورتوں میں) یہ مدعی حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام بانی سلسلہ احمدیہ ہیں۔آج سے قریباً ساٹھ سال پہلے خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ پر وحی نازل ہوئی اور خدا تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ تجھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی خدمت کیلئے اور خدا تعالیٰ کے نام کو دوبارہ اس دنیا میں روشن کرنے کیلئے مقرر کیا گیا ہے اور تجھے وہی رُتبہ دیا گیا ہے جو پہلے انبیاء کو دیا گیا تھا، سوائے اِس فرق کے کہ تو قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل متبع ہے اور کوئی نئی شریعت تجھے نہیں دی گئی۔چنانچہ آپ کو الہام ہوا کہ کُلُّ بَرَکَۃٍ مِنْ مُّحَمَّدٍ ﷺ فَتَبَارَکَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ ۵۸۹؎ تمام برکتیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل ہوتی ہیں۔پس بہت برکت والا ہے وہ بھی جس نے سکھایا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بہت برکت والا ہے وہ بھی جس نے سیکھا، یعنی احمد قادیانی علیہ السلام۔پھر آپ کو کہا گیا: ’’ دنیا میں ایک نذیر آیا، پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا، لیکن خدا اسے قبول کرے گا، اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا‘‘۔۵۹۰؎ قرآن کریم میں نذیر نبیوں کا نام آتا ہے اور بانی سلسلہ احمدیہ کے ایک الہام میں نذیر کی بجائے نبی کا لفظ بھی آتا ہے ( ایک غلطی کا ازالہ)۵۹۱؎ آپ کا کام یہ تھا کہ آپ اس تاریکی کے زمانہ میں پھر دنیا کو خدا تعالیٰ سے روشناس کرائیں اور تازہ الہاموں اور معجزات سے اِس مادی دنیا کے دل میں روحانیت کا بیج دوبارہ بو دیں۔جس وقت آپ نے دعویٰ کیا اُس وقت آپ