دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 480

نام ہے طبعی جذبات کو صحیح طور پرا ستعمال کرنے کا۔پس طبعی جذبات کو مار دینا یا حد سے زیادہ اُن میں منہمک ہو جانا یہ اخلاقی گناہ ہوتا ہے جو طبعی جذبات کو مارنا چاہتا ہے وہ قانونِ قدرت کا مقابلہ کرتا ہے۔جو اُن کے پورا کرنے میں منہمک ہو جاتا ہے وہ اپنی روح کو بھول جاتا ہے اور مذہب کو نظر انداز کر دیتا ہے اور یہ دونوں باتیں خطرناک ہیں۔تم قانونِ قدرت کو بھی نہیں کچل سکتے اور تم قانونِ شریعت کو بھی نہیں کچل سکتے۔اسی اصل کے ماتحت قرآن کریم فرماتا ہے کہ دنیا میں تمام چیزیں حلال ہیں کیونکہ وہ انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔ہاں صرف اُس صورت اور اُس شکل میں اُن کے استعمال پر حد بندی لگائی جاتی ہے جس صورت اور جس شکل میں وہ انسان کے لئے مضر ہو جاتی ہیں۔اِس قانون کے ماتحت اسلام کے رو سے شادی نہ کرنا نیکی نہیں گناہ ہے کھانے پینے اور پہننے کے متعلق طیب چیزوں کااستعمال نہ کرنا نیکی نہیں گناہ ہے، کیونکہ اِس میں قانونِ قدرت کی ہتک اور اس کا مقابلہ ہے اور خد ا تعالیٰ کے فضلوں کی ناشکری ہے۔لیکن انہی چیزوں میں پڑ جانا اور ان کے استعمال میں غلو اور اسراف سے کام لینا یہ بھی گناہ ہے کیونکہ اس طرح انسان اپنی روح کو بھول جاتا ہے اور اصل مقصد انسانی زندگی کا روح کو کامل کرنا ہی ہے۔جس طرح وہ شخص گنہگار ہے جو کام ہی کرتا رہتا ہے اور کھانا نہیں کھاتا کیونکہ وہ مر جائے گا اور اس کا کام مکمل نہیں ہو گا۔اسی طرح وہ شخص بھی گنہگار ہے جو کھانا ہی کھاتا رہتا ہے اور کام نہیں کرتا۔کیونکہ وہ شخص ذرائع کے پیچھے پڑجاتا ہے اور مقصود کو بھول جاتا ہے۔بغیر ذرائع کے مہیا کرنے کے مقصد حاصل نہیں ہوتا اور بغیر صحیح مقصد کو پیش نظر رکھنے کے صحیح ذرائع مہیا نہیں کئے جا سکتے۔قانونِ تمدن میں تنظیم اور یکجہتی پیدا کرنے کے لئے اُصول قانونِ تمدن میں تنظیم اور یک جہتی پیدا کرنے کے لئے قرآن کریم نے مندرجہ ذیل اصول بیان کئے ہیں۔(اوّل) اصل مالک خدا تعالیٰ ہے اور سب چیزیں اس کی ہیں۔(۲) اس نے یہ سب چیزیں بحیثیت مجموعی بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے انسان کے اختیار میں دی ہیں۔