دیباچہ تفسیر القرآن — Page 387
ایک دفعہ جب کسی بات سے ناراض ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کر لیا کہ کچھ دن آپ گھر سے باہر رہیں گے اور بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے اورمجھے اِس کی خبر ملی، تو میں نے کہا دیکھو جو میں کہتا تھا وہی ہو گیا۔میں اپنی بیٹی حفصہؓ کے گھر میں گیا تو وہ رو رہی تھیں۔میں نے کہا حفصہ! کیا ہوا؟ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ اُنہوں نے کہایہ تو مجھے معلوم نہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بات کی وجہ سے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ کچھ عرصہ کے لئے گھر میں نہیں آئیں گے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا حفصہ! میں تجھے پہلے نہیں سمجھا یا کرتا تھا کہ تو عائشہؓ کی نقلیں کرتی ہے حالانکہ عائشہؓ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص طور پر پیاری ہے۔دیکھ آخر تو نے وہی مصیبت سہیڑ لی جس کا مجھے خوف تھا۔یہ کہہ کر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھردری چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔آپ کے جسم پر کرتہ نہ تھا اور آپ کے سینہ اور کمر پر چٹائی کے نشان بنے ہوئے تھے میں آپ کے پاس بیٹھ گیا اور کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! یہ قیصر و کسریٰ کہا ں مستحق ہیںاس بات کے کہ ان کو خد اتعالیٰ کی نعمتیں ملیں مگر وہ تو کس آرا م سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور خدا کے رسول کو یہ تکلیف ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔عمر!یہ درست نہیں اِس قسم کی زندگیاں خد اکے رسولوں کی نہیں ہوتیں یہ دنیا دار بادشاہوں کا شغل ہے۔پھر میں نے آپ کو سارا واقعہ سنایا جو میری بیوی اور بیٹی کے ساتھ گزرا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری باتیں سن کر ہنس پڑے اور فرمایا عمر! یہ بات درست نہیں کہ میں نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔میں نے تو صرف ایک مصلحت کی خاطر کچھ دنوں کے لئے اپنے گھر سے باہر رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔۴۷۵؎ عورتوں کے جذبات کا آپ کو اتنا خیال تھا کہ ایک دفعہ نماز میں آپ کو ایک بچہ کے رونے کی آواز آئی تو آپ نے نماز جلدی جلدی پڑھا کر ختم کر دی پھر فرمایا ایک بچہ کے رونے کی آواز آئی تھی میں نے کہا اِس کی ماں کو کتنی تکلیف ہو رہی ہوگی چنانچہ میں نے نماز جلدی ختم کر دی تاکہ ماں اپنے بچہ کی خبر گیری کر سکے۔۴۷۶؎ جب آپ ایسے سفر پر جاتے جس میں عورتیں بھی ساتھ ہوتیں تو ہمیشہ آہستگی سے چلنے کا حکم