دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 314

کرتا تھا اُن پر غالب آگیا اور دلیری سے آگے بڑھ کر انہوں نے اُن لوگوں کو اسلام کی دعوت دینی شروع کر دی۔جو لوگ دشمنوں کے اُکسائے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وطن پر حملہ کر کے اُسے فتح کرنا چاہتے تھے وہ اِن لوگوں کی توحید کی تعلیم سے بھلا کہاں متأثر ہو سکتے تھے۔جونہی اِن لوگوں نے اُن کو اسلام کی تعلیم سنانی شروع کی چاروں طرف سے سپاہیوں نے کمانیں سنبھال لیں اور اُن پر تیر برسانے شروع کر دئیے۔جب مسلمانوں نے دیکھا کہ ہماری تبلیغ کا جواب بجائے دلائل اور براہین پیش کرنے کے یہ لوگ تیر پھینک رہے ہیں تو وہ بھاگے نہیں اور اس سینکڑوں اور ہزاروں کے مجمع سے انہوں نے اپنی جانیں نہیں بچائیں بلکہ سچے مسلمانوں کے طور پر وہ پندرہ آدمی ان سینکڑوں ہزاروں آدمیوں کے مقابلہ پر ڈٹ گئے اور سارے کے سارے وہیں مر کر ڈھیر ہو گئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ ایک اَور لشکر بھیج کر ان لوگوں کو سزا دیں جنہوں نے ایسا ظالمانہ فعل کیا تھا۔ا تنے میں آپ کو اطلاع ملی کہ وہ لشکر جو وہاں جمع ہو رہے تھے پراگندہ ہو گئے ہیں اور آپ نے کچھ مدت کیلئے اس ارادہ کو ملتوی کر دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی دَوران میں غسان قبیلہ کے رئیس کو جو رومی حکومت کی طرف سے بصرہ کا حاکم تھا یا خود قیصر روما کو ایک خط لکھا۔غالباً اس خط میں مذکورہ بالا واقعہ کی شکایت ہو گی کہ بعض شامی قبائل اسلامی علاقہ پر حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور یہ کہ انہوں نے بِلاوجہ پندرہ مسلمانوں کو قتل کر دیا ہے۔یہ خط الحرث نامی ایک صحابی کے ہاتھ بجھوایا گیا تھا۔وہ شام کی طرف جاتے ہوئے موتہ نامی ایک مقام پر ٹھہرے جہاں غسان قبیلہ کا ایک رئیس سرجیل نامی جو قیصر کے مقرر کردہ حکام میں سے تھا اُنہیں ملا اور اُس نے ان سے پوچھا کہ تم کہاں جارہے ہو؟ شاید تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامبر ہو؟ انہوں نے کہا ہاں۔اس پر اُس نے ان کو گرفتار کر لیا اوررسیوں سے باندھ کر مار مار کر انہیں مار دیا۔گو تاریخ میں اس کی تشریح نہیں آئی لیکن یہ واقعہ بتاتا ہے کہ جس لشکر نے پہلے پندرہ صحابیوں کو مارا تھا یہ شخص اس کے لیڈروں میں سے ہو گا۔چنانچہ اس کا یہ سوال کرنا کہ شاید تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامبروںمیں سے ہو بتاتا ہے کہ اُس کو خوف تھا کہ محمد رسول اللہ قیصر کے پاس شکایت کریں گے کہ تمہارے علاقہ کے لوگ ہمارے علاقہ کے لوگوں پر حملہ کرتے ہیں اور وہ ڈرتا ہو گا کہ شاید