دیباچہ تفسیر القرآن — Page 303
گئے اور حبشہ کے بائیں سے بھی اسلامی لشکر نکل گئے۔مگر اس احسان کی وجہ سے جو حبشہ کے بادشاہ نے ابتدائی اسلامی مہاجرین کے ساتھ کیا تھا اور اس احترام کی وجہ سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کا نجاشی نے کیا تھا اُنہوں نے حبشہ کی طرف نظر اُٹھا کر بھی نہ دیکھا۔قیصر جیسے بادشاہ کی حکومت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔کسریٰ جیسے بادشاہ کی حکومت کا نام ونشان مٹ گیا۔چین اور ہندوستان کی شہنشاہیاں تہہ و بالا کر دی گئیں مگر حبشہ کی ایک چھوٹی سے حکومت محفوظ رکھی گئی اس لئے کہ اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی ساتھیوں کے ساتھ ایک احسان اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کا ادب اور احترام کیا تھا۔یہ تو وہ سلوک تھا جو ایک ادنیٰ سے احسان کے بدلہ میں حبشہ والوں سے مسلمانوں نے کیا۔مگر عیسائی اقوام نے جو ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا بھی پھیر دینے کی مدعی ہیں اپنے ہم مذہب اور ہم طریقہ بادشاہ حبشہ اور اس کی قوم کے ساتھ جو سلوک اِن دنوں کیا ہے وہ بھی دنیا کے سامنے ظاہر ہے۔کس طرح حبشہ کے شہروں کو بمباری سے اُڑا دیا گیا اور بادشاہ اور اُس کی محترم ملکہ اور اُس کے بچوں کو اپنا ملک چھوڑ کر غیر ملکوں میں سالہا سال پناہ لینی پڑی۔کیا حبشہ سے یہ دو قسم کا سلوک ایک مسلمانوں کا ایک عیسائیوں کا اُس قوت قدسیہ کو ثابت نہیں کرتا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی اور جو آج تک بھی کہ مسلمان بہت کچھ دین سے دور جا چکے ہیں اُن کے خیالات کو نیکی اور احسان مندی کی طرف مائل رکھتی ہے۔مقوقس شاہِ مصر کے نام خط چوتھا خط آپ نے مقوقس بادشاہ مصر کی طرف لکھا تھا اور یہ خط حاطب بن ابی بلتعہؓ کی معرفت آپ نے بھجوایا۔اِس کا مضمون یہ تھا:۔بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔مِنْ مُّحَمَّدٍ رَسُوْلِ اللّٰہِ اِلیَ الْمَقَوْقَسِ عَظِیْمِ الْقِبْطِ سَلَامٌ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔اَمَّا بَعْدُ فَاِنِّیْ اَدْعُوْکَ بِدِعَایَۃِ الْاِسْلاَمِ اَسْلِمْ تَسْلَمْ یُؤْتِکَ اللّٰہُ اَجْرَکَ مَرَّتَیْنِ فَاِنْ تَوَلَّیْتَ فَاِنَّمَا عَلَیْکَ اِثْمُ الْقِبْطِ۔وَیَااَھْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَنْ لاَّ نَعْبُدَ اِلاَّ اللّٰہَ وَلَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا وَلَایَتّخِذَبَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاِنْ