دیباچہ تفسیر القرآن — Page 126
شاگردوں کے لئے شریعت پر مہر کرو۔میں بھی خداوند کی راہ دیکھوں گا جو اَب یعقوب کے گھرانے سے اپنا منہ چھپاتا ہے میں اُس کا انتظار کروںگا‘‘۔۱۴۴؎ اِس پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایک مقدس ظاہر ہوگا لیکن وہ بنی اسرائیل کے دونوں گھرانوں کے لئے ٹھوکر کا موجب ہوگا اور یروشلم کے باشندوں کے لئے پھندا اور دام بنے گا۔ا گر وہ اس کا مقابلہ کریں گے تو وہ شکست کھائیں گے اور پکڑے جائیں گے۔اُس کے زمانہ میں یہودی شریعت ختم کردی جائے گی اور یعقوب کے گھرانے سے خدا تعالیٰ منہ پھیر لے گا۔انجیل نویس اس پیشگوئی کے متعلق خاموش ہیں اور شاید وہ اسرائیل کے دونوں گھرانوں سے وہ دو گھرانے مراد لیتے ہیں جن میں سے ایک نے سلیمان کے بیٹے کا ساتھ دیا تھااور دوسرے نے اُن سے بغاوت کر کے الگ حکومت قائم کر لی تھی۔لیکن یہ درست نہیں ہوسکتا۔اِس پیشگوئی میں تو یہ بتایاگیا ہے کہ خدا کا ایک مقدس کھڑا ہو گا اور اُس کے زمانہ میں یہ باتیں ہوں گی۔یا تو اس مقدس سے مراد مسیح ہے اور یا پھر مسیح کے بعد کوئی اور آنے والا شخص ہے۔کیونکہ یسعیاہ اور مسیح کے درمیان کوئی ایسا باعظمت انسان نہیں گزرا جس کے ساتھ بنو اسرائیل نے ٹکر کھائی ہو۔صرف حضرت مسیحؑ ہی ایسے تھے جن سے بنوا سرائیل نے ٹکر کھائی۔مگر کیا مسیح سے ٹکر کھا کر بنو اسرائیل پکڑے گئے یا اُن کے شاگردوں کے لئے شریعت پر مہر کر دی گئی؟ مسیح تو صاف کہتا ہے کہ :۔’’ یہ خیال مت کرو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتاب منسوخ کرنے کو آیا ہوں۔میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہرگز نہ مٹے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو‘‘۔۱۴۵؎ بلکہ مسیح اپنے بعد کے زمانہ کے لئے بھی کہتا ہے کہ:۔’’ کیا براتی جب تک کہ دولہا اُن کے ساتھ ہے روزہ رکھ سکتے ہیں۔وے جب تک کہ دولہا اُن کے ساتھ ہے روزہ نہیں رکھ سکتے۔لیکن وے دن آویں گے جب دولہا اُن سے جدا کیا جائے گا، تب اُنہی دنوں میں وے روزے رکھیںگے‘‘۔۱۴۶؎