دیباچہ تفسیر القرآن — Page 106
اور بعضے الیاس اوربعضے نبیوں میں سے ایک۔پھر اُس نے اُنہیں کہا تم کیا کہتے ہو کہ میں کون ہوں؟ پطرس نے جواب میں اُس سے کہا کہ تُو تو مسیح ہے تب اُس نے انہیں تاکید کی کہ میری بابت کسی سے یہ مت کہو‘‘۔۱۱۲؎ اِس آیت میں مسیح نے اپنے متعلق یوحنا یا الیاس یا نبیوں میں سے کوئی نبی ہونے سے انکار کیا ہے۔لیکن موسیٰ کی پیشگوئی بتاتی ہے کہ وہ جو موسیٰ کے نقشِ قدم پر آنے والا ہے نبی ہو گا۔پس یقینا یہ پیشگوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر چسپاں ہوتی ہے نہ کہ مسیح پر۔(۴) اِس پیشگوئی میں کہا گیا تھا کہ میں اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا۔لیکن ساری انجیلوں میں ہمیں خدا کا کلام کہیں نظر نہیں آتا۔اِس کے برخلاف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کو پیش کیا۔جو شروع سے لے کر آخر تک خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کا نام بھی قرآن کریم میں کلام اللہ رکھا گیا ہے۔۱۱۳؎ (۵) اِس پیشگوئی میں کہا گیا تھا کہ جو کچھ میںاُسے فرمائوں گا وہ سب اُن سے کہے گا۔اوپر بتایا جا چکا ہے کہ مسیح نے خود اقرار کیا ہے کہ جو کچھ اُسے کہا گیا تھا وہ سب کا سب لوگوں کو نہیں سناتا تھا لیکن اُس نے یہ پیشگوئی ضرور کی تھی کہ میرے بعد ایک ایسا شخص آئے گا جو سب سچائی کی راہیں لوگوں کو بتائے گا۔چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا سارا کلام لوگوں کو پہنچاتے ہیں اور کوئی بات جس کی دین کے لئے ضرورت ہے انہوں نے چھوڑی نہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرماتا ہے ۱۱۴؎ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! تیرے متعلق یہ پیشگوئی ہے کہ جب تو دنیا میں آئے گا تو ساری سچائیاں دنیا کو سنائے گا۔اس لئے دنیا خواہ بُرا منائے یا اچھا تو کسی کی پرواہ نہ کر اور جو وحی تجھے کی جاتی ہے وہ ساری کی ساری لوگوں کو سُنا دے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے متعلق فرماتا ہے ۱۱۵؎ میں نے آج اِس کلام کے ذریعہ سے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا ہے اور