دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 93

سے سینکڑوں سال پہلے واقعہ ہو چکی ہے ایک ایسے کلام کی ضرورت تھی جو اِن تمام نقائص سے پاک ہو اوروہ کلام قرآن کریم ہے۔ویدوں میں تناقض چونکہ ویدوں میںمختلف زمانوں میں مختلف لوگوں نے دست اندازی کی ہے اِس لئے اُن کے مضامین میں بہت کچھ تناقض بھی پیدا ہو گیا ہے۔چنانچہ ہم ذیل میں اس تناقض کی چند مثالیں بیان کرتے ہیں:۔۱۔ویدوں میں یہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ سورج کو کس نے پیدا کیا ہے؟ اور اِس کا جواب مختلف ویدوں میں دیا گیا ہے۔چنانچہ رگوید منڈل نمبر ۹ سُوکت ۹۶ منتر نمبر ۵ میں لکھا ہے: ــ’’سورج کواکیلے سوم دیوتا نے پید ا کیا تھا‘‘۔لیکن رگوید منڈل نمبر ۸ سُوکت ۳۶ منتر نمبر ۴ میںلکھا ہے:۔’’سورج کو اکیلے اِندر دیوتا نے پید اکیا تھا‘‘۔یہ عجیب بات ہے کہ وہی کتاب ایک باب میں تو کہتی ہے کہ سورج کو اکیلے سوم دیوتا نے پید اکیا تھا اور دوسرے باب میں یہ کہتی ہے کہ سورج کو اکیلے اِندر دیوتا نے پید ا کیا تھا، لیکن دوسرے وید تو اور بھی کمال کر دیتے ہیں۔یجر وید ادھیائے ۱۳ منتر ۱۲ میں لکھاہے :۔’’ سورج کو اکیلے برہما نے اپنی آنکھ سے پیدا کیا تھا‘‘۔گویا رگویدتو اکیلے سوم دیوتا اور اکیلے اِندر دیوتا سے سورج کو پید اشدہ قرار دیتا ہے لیکن یجر وید نہ اُسے سوم دیوتا کا پیدا کیا ہوا قرار دیتا ہے نہ اِندر دیوتا کا بلکہ اُسے برہما دیوتا کا پیدا کیا ہو ابتاتا ہے اور بتاتا ہے کہ اُسے برہما نے پیدا بھی اپنی آنکھ سے کیا تھا۔اتھرو وید اس کے بالکل خلاف ایک اور ہی حقیقت بیان کرتا ہے۔اِس میں لکھا ہے:۔’’ سب دیوتائوں نے مل کر سورج کو پیدا کیا تھا‘‘۔۹۱؎ اتھر ووید کی اِس روایت نے حقیقت بالکل ہی بدل دی۔وہ سورج کو نہ اکیلے سوم دیوتا کا پیدا کیا ہوا قرار دیتا ہے نہ اِندر دیوتا کا نہ بر ہما کا بلکہ وہ سب دیوتائوں کو اُس کی پیدائش میں شریک قرار دیتا ہے۔۲۔ویدوںسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سورج پہلے ز مین پر تھا پھر اُس کو اُٹھا کر آسمان پر لے گئے