صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 34 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 34

35 کھنڈرات اور قبرستان وادی قمران سے ایک میل شمال میں ایک ٹیلے کی چوٹی پر کافی وسیع اور ہموار جگہ ہے۔یہاں سے ایک میل پر بحر میت کا خاموش پانی ہے۔اس ٹیلے پر قدیم عمارتوں کے کھنڈرات موجود تھے اور خربت قمران کے نام سے مشہور چلے آرہے تھے۔یہ جگہ ان غاروں کے بالکل قریب ہے۔جہاں سے صحائف دریافت ہوئے ہیں۔پہلی صدی کے مشہور مؤرخ پلینی کا بیان ہے کہ اس زمانے میں یہاں ایک یہودی اقلیتی فرقہ آباد تھا۔جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ بالکل وہ زمانہ تھا جبکہ صحائف لکھے جارہے تھے۔اس فرقہ کو اخوت الیسین" کہتے تھے۔چنانچہ اس خیال سے کہ شائد صحائف کو سمجھنے میں کوئی راہنمائی حاصل ہو سکے۔محققین نے کھنڈرات میں دلچسپی لینا شروع کی۔نومبر 1951ء میں مکرم پیری ڈی واکس اور ہارڈنگ نے کھدائی کا کام شروع کیا۔یہ ہموار جگہ 260 گز چوڑی اور 360 گز لمبی ہے۔ایک خط مستقیم اس کو دو غیر مساوی حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔مشرقی حصہ نبتا وسیع ہے۔یہ قبرستان ہے۔اس میں گیارہ سو قبریں ہیں جو قطاروں میں بڑے سلیقے سے بنائی گئی ہیں۔360 گز لمبی ایک دیوار اس قبرستان کو جنوبی حصے سے الگ کرتی ہے۔اس دیوار کے بعض حصے اب بھی موجود ہیں۔جنوبی حصہ میں مرکزی عمارات ہیں۔اس کی زیادہ سے زیادہ چوڑائی 72 گز ہے۔دیوار کے شمال مشرقی جانب ایک ہال 120x96 فٹ ہے۔اس سے ذرا آگے دیوار کے مغربی جانب 130 فٹ لمبا تالاب ہے۔اس کے آگے دیوار جنوب مغربی کنارے کو نکل جاتی ہے۔عمارتوں کے جنوب مغربی کونے میں تین کمرے ہیں۔انکی دیوار میں اب بھی نو فٹ اونچی کھڑی ہیں۔ان میں سے بڑے کمرے کی دیواروں کے ساتھ چاروں طرف آٹھ اٹھی اونچا پلستر کیا ہوا بنچ بنا ہے۔اس کونے میں عمارات کے باہر بھی کچھ حصہ پلستر کیا ہوا ہے۔عمارت کے شمال مشرقی