صحائف وادئ قمران — Page 20
21 پہلے صحیفے کے دائیں طرف ایک جگہ کچھ سوراخ نظر آتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوراخ فیتہ باندھنے کی وجہ سے ہیں۔مگر یہ جگہ درمیان میں ہونے کی بجائے بالکل نچلی طرف آگئی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کس قدر صحیفہ ضائع ہو چکا ہے۔اگر اسی قدر حاشیہ نچلی طرف بھی چھوڑا جائے جتنا اوپر ہے تو ہر کالم میں کم از کم 23 سطور ہونی چاہیے تھیں۔لیکن اس وقت کسی کالم میں بھی 14 سے زیادہ سطور محفوظ نہیں ہیں۔کیونکہ صحیفہ الٹا لپٹا ہوا تھا۔اس لئے اس کی ابتدائی عبارت بالکل محفوظ ہے۔مگر آخری حصے کو کافی نقصان پہنچا ہے۔موجودہ حالت میں یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا کتنا حصہ ضائع ہو چکا ہے۔یہ چار تختیوں کے سرے آپس میں سی کر بنایا گیا ہے۔صحیفے کے 18 کالم محفوظ ہیں انیسویں کالم میں صرف چند الفاظ بچے ہوئے ہیں۔اس صحیفے کی لکھائی بہت خوبصورت ہے۔اس میں غلطیاں بہت کم تعداد میں ہیں۔اور ان کی اصلاح پہلے کا تب نے ہی کر دی ہے۔اس غرض کے لئے بین السطور لکھا ہوا ہے۔کالم 11 سطر 4 میں پہلی عبارت کو مٹا کر نئی تحریر درج کی ہوتی ہے۔جس میں بائیل کا حوالہ ہے۔جیسا کہ صحیفے کے نام سے ظاہر ہے کہ اس میں دو قسم کی طاقتوں کا ذکر ہے۔یعنی نیکی کرنے والی اور بدی کرنے والی۔پہلی طاقت نور کہلاتی ہے۔ابنائے نور اس کی پیروی کرتے ہیں اور اس کو ترقی دیتے ہیں اس کے برعکس دوسری طاقت کو ظلمت کا نام دیا گیا ہے۔جواس کی مخالف ہے۔اس کے غلام ابنائے ظلمت کہلاتے ہیں۔موجودہ صحیفے میں نور اور ظلمت کی کشمکش کا ذکر ہے۔ابنائے ظلمت ابنائے نور پر مظالم ڈھاتے اور ان کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔مگر وقت آنے والا ہے جب ابنائے نور اپنے مخالفین پر آخری اور فیصلہ کن حملہ کریں گے۔اس حملے میں نور کا شہزادہ ابنائے نور کا سپہ سالار ہوگا۔اس کی مدد کے لئے اللہ تعالیٰ "روح حق" کو بھیجے گا۔اس حملے میں ابنائے ظلمت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا جائے گا۔صحیفے میں جنگ کا نقشہ پر ہیبت الفاظ میں کھینچا گیا ہے۔ابنائے نور کی افواج کو مختلف