صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 13 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 13

14 محققین کو صحائف حاصل کرنے میں بہت نامساعد حالات پیش آتے رہے۔سب سے بڑی روک فلسطین کے خطرناک سیاسی حالات تھے۔عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان خونریز جنگ ہورہی تھی انگریزی حکومت دونوں طاقتوں کے درمیان مفاہمت کی کوشش کر رہی تھی۔اس نے حالات کو قابو میں رکھنے کے لئے کئی عربوں کو تختہ دار پر لٹکایا۔اور عربوں نے متعدد انگریز افسروں کو موت کے گھاٹ اتارا۔اس وجہ سے صحائف کو یروشلم میں غیر محفوظ سمجھ کر امریکہ بھیج دیا گیا۔جہاں ان کی اشاعت ممکن ہوسکی۔غاروں سے ملنے والے صحائف قدیم عبرانی اور آرامی زبان میں ہیں ان میں سے بعض کی زبان یونانی اور عبرانی ہے۔فونیشی اور بعض نامعلوم حروف میں لکھے ہوئے صحائف بھی قلیل مقدار میں ہیں۔ان زبانوں کے ماہرین کی قلت کے باعث صحائف کی اشاعت کو کافی دیر تک التوا میں رکھا گیا۔بدوؤں سے صحائف خریدنے کے لئے بڑی بڑی رقموں کی ضرورت تھی جو کوئی بھی انفرادی خریدار ادانہ کر سکتا تھا اس کے لئے اداروں کو بخوشی رقوم وقف کرنا چاہئے تھیں۔مگر بڑے بڑے علمی اداروں نے بڑی سرد مہری کا مظاہرہ کیا۔اور صحائف کے ماہر ہاتھوں میں پہنچنے کا معاملہ عرصہ تک کھٹائی میں پڑا رہا۔خریداروں کی خاموشی کے باعث مارا تھناسیس نے صحائف کی اشاعت کا کام روک دیا۔کیونکہ اسکا خیال تھا کہ اس طرح ان کی قیمت گر جائیگی۔اس نے جون ۱۹۵۴ء میں نیو یارک میں یہ اشتہار شائع کیا کہ وادی قمران سے حاصل ہونے والے دو ہزار سال پرانے صحائف قابل فروخت ہیں۔اس اشتہار کو پڑھ کر اسرائیل کے جنرل باوین نے جو پروفیسرای۔ایل سکینک کے بیٹے ہیں نیو یارک کے ایک وکیل کو سودا طے کرنے کو کہا۔سیاسی حالات ایسے تھے کہ جنرل یادین کو اپنا نام اختفاء میں رکھنا پڑا۔بہر حال نیو یارک کے ایک امیر شخص نے جس کا نام سموئیل کاٹسمین تھا۔اس مقصد کے لئے ڈھائی لاکھ کی مطلوبہ رقم مہیا کی۔اور جنرل یا دین نے اسرائیلی حکومت کے لئے صحائف خرید لئے۔لیکن صحائف کے فلسطین پہنچنے سے پہلے کسی پر اس سودے میں اسرائیل کی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا گیا۔حتی کہ ایک سال بعد ۱۳ فروری ۱۹۵۵ء کو اسرائیلی وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ صحائف کو ایک مخصوص