صحائف وادئ قمران — Page 11
12 دل میں غار کو دیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔یہی شوق ۸ فروری ۱۹۴۹ء کو ہارڈنگ اور ڈی واکس کو وادی قمران میں لے گیا ہے وہ دونوں ایک ہفتہ وہاں گزارنے کے بعد یروشلم واپس آگئے۔خار تک پہنچنا کافی مشکل ہے۔اب اس کا دہانہ پتھر کاٹ - کرتیں انچ چوڑا کر دیا گیا ہے۔اندر سے غار ۲۵ فٹ لمبی اور سات فٹ چوڑی ہے۔اس کی زیادہ سے زیادہ بلندی دس فٹ ہے۔کچھ عرصہ بعد بدؤوں نے صحائف کے مزید ٹکڑے فروخت کے لئے پیش کئے اور۔بتانے سے انکار کر دیا کہ وہ کہاں سے ملے ہیں۔چنانچہ بحیرہ مردار کے جنوب مغربی کنارے کی تلاشی لینے کے لئے آثار قدیمہ کے ماہرین کا ایک وفد تیار کیا گیا۔یہ وفد جہاں بھی گیا ناکام لوٹا۔بدو ان سے پہلے غاروں کو خالی کر جاتے انہوں نے بہت سی غاروں سے حاصل کردہ صحائف فروخت کے لئے مارکیٹ میں پیش کئے۔وفد کے ماہرین اور بدؤوں کے درمیان ایک قسم کا مقابلہ شروع ہو گیا۔وفد کے آدمیوں نے اپنی ناکامی دیکھ کر بدؤوں کو اپنے ساتھ ملایا اور ان کے تعاون سے کھدائی کا کام بہتر طریق پر جاری کیا۔چنانچہ اب بڑی تعداد میں صحائف کے ٹکڑے حاصل ہوئے۔بدؤوں کو ذاتی کوششوں سے جو صحائف حاصل ہوئے تھے ان کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کرنا چاہتے تھے۔اور اس خیال سے صحائف اور ان کے ٹکڑوں کو روک رکھتے تھے۔چنانچہ علماء نے ان کی قیمت مقرر کر دی جو ایک پونڈ سٹرلنگ فی مربع سنٹی میٹر تھی۔یہ قیمت بہت زیادہ تھی اس لئے بدؤوں نے وفد کے ساتھ تعاون کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے طور پر بھی غاروں کی تلاش کا کام جاری رکھا۔اور کئی غاروں سے صحائف نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔۱۹۴۹ء اور ۱۹۵۱ء میں انہوں نے بہت بڑی تعداد میں صحائف نکالے۔حکومت نے بدؤوں کو غیر سرکاری کھدائی سے روکنے کے لئے اس علاقے میں ایک حفاظتی دستہ متعین کر دیا۔مگر بدو اپنے کام میں بہت ماہر تھے۔انہوں نے ستمبر ۱۹۵۲ء میں بہت۔The Riddle of the Scrolls P-21 1