صحائف وادئ قمران — Page 126
129 یعقوب کا خط :۔اس خط کے باب 1 آئت 12 میں آزمائش کو انسان کی کمزوری اور خواہشات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔جماعت کے دستور کالم 8 سطر 4 اور شکرانے کے زبور کالم 8 سطر 26 اور کالم 9 سطر 6 اور کالم 11 سطر 19 سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تصور ایسینی فرقے میں پہلے سے رائج تھا۔عبرانیوں کے نام خط : اس خط کے متعلق اکثر محققین کا خیال ہے کہ یہ ایسینی فرقے کے مسیحیوں کے نام لکھا گیا تھا۔گلگیز لکھتے ہیں: "The main themes of this Epistle show that the Jewish Christians to whom it was addressed had very much the same background as the covenanters۔"! ترجمہ: اس خط کے بنیادی مضامین سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان یہودی مسیحیوں کا پس منظر جنہیں یہ لکھا گیا بالکل ویسا ہی تھا۔جو معاہدین (ایسین ) کا تھا۔“ مخط کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس فرقے کو یہ لکھا گیا وہ پادریوں کو خاص اہمیت دیتا تھا۔اور فرشتوں کی فضیلت کا قائل تھا۔ان عقائد کے حامل ایسینی ہی تھے ان کے ان عقائد میں غلو کی اصلاح کے لئے اس خط میں مسیح کی فرشتوں پر فضیلت ثابت کی گئی ہے۔اور آپ کو ملک صدق کی طرح ابدی کا ہن اور بادشاہ قرار دیا گیا ہے۔ہی۔ایف پاٹر نے مذکورہ بالا عام نظریہ بیان کرنے کے بعد کہ یہ مخلط ایسینیوں کو لکھا گیا۔آخر میں یہ لکھا ہے کہ اس کی زبان کی صحت، شتگی اور ادبی طرز سب اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ کسی ایسے شخص کے قلم سے نکلا ہے۔جو لمبا عرصہ ایسینی علماء کے ہاں زیر تربیت رہا۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔"It may well have been written not to the Qumran Essenes but very possibly by one who had been trained among them by their great Impact of the Dead sea scrolls P-156 1