صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 92 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 92

95 ترجمہ: یہاں وہ رد کی گئی کتب ہیں جو قبل مسیح میں لکھی گئیں پھر ان میں وہ اقوال و تعلیمات درج ہیں جنہیں اکثر مسیحی آج تک مسیحیت کے نئے عہد نامے میں بالکل نئی اور ابتدائی خیال کرتے تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ انہیں یسوع مسیح نے براہ راست تازه وجی پاکر پہلی بار بیان کیا یعنی ایسا پیغام جو آج تک خدا باپ نے کسی دوسرے پر ظاہر نہ کیا تھا۔“ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عیسائی علماء نئے عہد نامے کو الہامی تسلیم کرنے کی بجائے یہ کہنے لگے کہ عیسائیت خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوئی بلکہ عام معاشرتی انقلاب کی طرح یہ بھی ایک لمبے تاریخی عمل کا نتیجہ ہے چنانچہ ملر بروز اپنی کتاب میں محقق ڈیوس کی رائے ان الفاظ میں درج کرتے ہیں۔"Davis says that Christianity is now shown to have originated not in a series of unique events caused by a supernatural intervention but by a natural process of social evolution۔" (More Light on the Dead Sea Scrolls P۔43) ترجمہ: ڈیوس کہتا ہے کہ اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مسیحیت کا ظہور کسی مافوق الفطرت طاقت کے دخل سے وقوع میں آنے والے عدیم المثال واقعات کے باعث نہ ہوا تھا بلکہ ایک سماجی ارتقاء کا نتیجہ ہے۔جو عام قوانین قدرت کے مطابق عمل میں آیا۔ملر بروز معمولی تبدیلی کیساتھ اس رائے کو ان الفاظ میں تسلیم کرتے ہیں: "Unquestionably Christianity is the fruit of a long historical process۔It does not follow, however, that God had nothing to do with it۔(More Light on the Dead Sea Scrolls P۔42) ترجمه بلاشبہ مسیحیت لمبے تاریخی عمل کا نتیجہ ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں خدا تعالیٰ کا دخل نہ تھا۔اس مفہوم کو فرانس پاٹر مندرجہ ذیل الفاظ میں ادا کرتے ہیں: "And now that the proven Mother of Christianity is known to have been the prior