صحائف وادئ قمران — Page 90
93 -3 " ابتدائی مسیحیت کا پس منظر حضرت مسیح علیہ السلام تشریعی نبی نہ تھے بلکہ آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تابع نبی تھے اور موسوی شریعت کے احیاء کے لئے مبعوث ہوئے تھے یہی وجہ ہے کہ آپ نے کسی نئے مذہب کی بنیاد نہ رکھی یہاں تک کہ اپنے متبعین کے لئے کوئی علیحدہ فرقہ بنانا بھی پسند نہ کیا اور نہ ہی ان کا کوئی نیا نام رکھا آپ کی وفات کے کئی سال بعد Antioch میں آپ کے متبعین کو مسیحی نام دیا گیا آپ نے بنی اسرائیل کو تبلیغ کرتے ہوئے فرمایا۔یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں کیونکہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہر گز نہ ملے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے پس جو کوئی چھوٹے چھوٹے حکموں میں سے بھی کسی کو توڑے گا اور وہی آدمیوں کو سکھائے گا وہ آسمان کی بادشاہت میں سب سے چھوٹا کہلائے گا لیکن جو ان پر عمل کرے گا اور ان کی تعلیم دے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائے گا۔(متی باب 5) پس آپ کا اصل مشن تورات کی تعلیمات کا احیاء تھا اور آپ عمر بھر یہی تعلیم دیتے رہے کہ تورات کے احکام پر بچے دل سے عمل کرو لیکن بعد میں جب پولوس نے عیسائیت میں کفارے کا عقیدہ داخل کیا تو اس مقصد کے لئے مسیح علیہ السلام کو خدا کا اکلوتا بلکہ خود خدا قرار دیا گیا چنانچہ اس وقت عیسائیت میں سے مسیح کے انسانی پہلو کو مکمل طور پر حذف کر دیا گیا جس طرح عام طور پر انبیاء دنیا میں مبعوث ہوئے اور اپنی اقوام میں تبلیغ کر کے متبعین کا گروہ پیدا کرتے ہیں اور قانون قدرت کے مطابق دنیا میں پھیلتے ہیں بلکہ اس میں مافوق الطبیعاتی عنصر کو غالب کر دیا گیا۔اور خاص طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کو انسانیت سے اٹھا کر خدائی رنگ دے دیا گیا اور شریعت کے احکام کی پابندی سے جان چھڑانے کے لئے یہ عقیدہ گھڑ لیا