صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 36 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 36

37 عمارت کے جنوب مشرق میں کئی جو ہڑ ہیں اس جگہ ایک غسل خانہ اور ایک بہت بڑا حوض ہے۔اس حوض میں نیچے اترنے کے لئے سیڑھیاں بنی ہیں۔اس کے پاس ہی کمہار کا پہیہ ہے۔جس سے صحائف کے لئے مرتبان اور دیگر ضروری برتن بنائے جاتے تھے۔عمارت کے اندر اور باہر گندہ پانی جمع کرنے کے لئے حوض بنے ہوئے ہیں۔مختلف حوضوں کو ملانے کے لئے نالیوں کا عمدہ انتظام موجود ہے۔ایک وسیع تالاب عمارت سے ذرا فاصلے پر جنوب مغرب کی طرف بنا ہے۔اس طرف کے وسیع علاقے کا پانی ایک لمبے نالے کے ذریعے اس تالاب میں جمع ہو جاتا ہے۔پانی تک پہنچنے کے لئے تالاب میں بارہ سیٹرھیاں بنائی گئی ہیں۔مغرب کی طرف واقع میدان میں چکیاں، کمہار کے لئے برتن رکھنے کا کمرہ اس کی بھٹی اور جانوروں کے لئے چارہ اکٹھا کرنے کے کمرے ہیں۔چکی کے گول پتھر ابھی تک پڑے ہیں۔اس میدان میں ایک اور چھوٹی عمارت ہے۔اس کے ایک کمرے میں کچھ مرتبان تھے۔ایک مرتبان میں سے 9-8 قبل مسیح کے پانچ صد سے زائد سکے ملے ہیں۔اس عمارت کے مشرق میں کھلی جگہ ہے۔جس کے آگے قبرستان ہے۔یہ عمارتیں سفیدی مائل پتھروں سے بنی ہیں۔پہلی کھدائی میں مختلف کمروں سے جو تانبے کے سکے ملے تھے وہ سن عیسوی کے شروع سے لیکر پہلی بغاوت (70-66ء) تک کے تھے۔دوسری کھدائی سے دیگر سکوں کے علاوہ ہیرودیس کے زمانے کا ایک سکہ بھی ملا ہے۔ان میں 29 قبل مسیح کا ایک سکہ بھی شامل ہے۔کھنڈرات سے ملنے والے سکوں کی تعداد ساڑھے سات سو سے زائد ہے۔لیکن غاروں سے کوئی سکہ دستیاب نہیں ہوا۔سکوں کی اکثریت ارخلاؤس کے زمانے (4 ق م) سے لیکر یہودی بغاوت (70-66ء) کے درمیانی عرصہ سے تعلق رکھتی ہے۔کھنڈرات قمران کی کھدائی سے کثیر تعداد میں برتن دستیاب ہوئے ہیں۔ان ظروف کی شکل وصورت اُن ظروف سے مشابہ ہے جن میں صحائف محفوظ کئے گئے تھے۔اس ضمن میں وہ مرتبان خاص طور پر قابل ذکر ہے۔جو ایک کمرے کے کونے میں دبا ہوا تھا۔یہ ڈھکا ہوا