صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 189 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 189

194 ترجم ولیکن دستور العمل میں استاد صادق کا ذکر تک نہیں۔اور جہاں تک ہمیں علم ہے فرقے کی رسوم میں اسکی زندگی یا موت کا کوئی ذکر نہ کیا جاتا تھا۔اس کے علاوہ ایسینیوں کے 66 قرن اول کے بیانات میں استاد صادق کی شخصیت ابھرتی ہوئی نظر نہیں آتی۔" ان بیانات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے۔کہ باوجودیکہ جماعت کا لٹریچر ترقی کے ایام میں لکھا گیا۔پھر بھی ابتدائی تحریرات میں استاد صادق کا ذکر نہیں ملتا۔گویا استاد صادق کا ذکر صرف ایسی تحریرات میں ملتا ہے۔جو جماعت کے آخری ایام میں لکھی گئیں۔یعنی 68 ء سے کچھ عرصہ پہلے تصنیف گئیں۔اب جناب ایچ۔ایچ رولے کا مندرجہ ذیل بیان ملاحظہ ہو: "The teacher is mentioned in some of the commentaries and in the Zadokite work۔The references are so allusive and obscure that it is almost certain that these texts were all written within a few decades of his death, when the allusions would be understood۔" " ترجمه استاد صادق کی وفات کا ذکر بعض تفاسیر اور صحیفہ دمشق میں ہے۔ان میں بھی حوالے ایسی تلمیحات و کنایات پر مبنی ہیں کہ یہ بات بالکل یقینی ہے کہ یہ کتب اس کی وفات کے تھوڑا عرصہ بعد ہی لکھی گئی تھیں۔جبکہ ان تلمیحات کو سمجھا جا سکتا تھا۔“ اب ہم استاد صادق کی وفات کا وقت بآسانی متعین کر سکتے ہیں کیونکہ وہ کتب جن میں اس کی وفات کا ذکر ہے۔اس کی وفات کے تھوڑا عرصہ بعد لکھی گئی تھیں۔اور ہمیں یہ معلوم ہے۔کہ وہ 68ء کے قریب ہی کسی زمانے میں تحریر کی گئیں۔پس استاد صادق کی وفات کا زمانہ میں (30) چالیس (40) سن عیسوی بنتا ہے۔اور بالکل وہی زمانہ ہے جس میں مسیح علیہ السلام کو واقعہ صلیب پیش آیا۔اور آج تک عیسائی اس واقعہ کو آپ کی وفات پر محمول کرتے ہیں۔پس صحائف قمران کا گہرا مطالعہ کرنے سے یہ بات روز روشن کی طرح کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ استاد صادق در اصل حضرت مسیح علیہ السلام ہیں۔اور جن صحائف میں آپ کا ذکر The Dead sea scrolls and the new testament۔P-80 ↓