صحائف وادئ قمران — Page 14
15 جائب گھر میں رکھا جائے گا۔اور ان کی عام نمائش کی جائینگی۔کچھ عرصہ گذرنے پر صحائف کو پڑھنے کے لئے مختلف ممالک کے چھ ماہرین کا ایک وفد تجویز کیا گیا۔جو اپنے کام کی رپورٹ با قاعدہ شائع کرتا رہا۔چونکہ بعض صحائف بری طرح جڑے ہوئے تھے۔ان کو کھولنے کے لئے خاص مہارت کی ضرورت تھی۔یہ کام بہت زیادہ محنت طلب تھا۔ہر وقت یہ اندیشہ رہتا تھا کہ کہیں ذرہ سی بے احتیاطی سے کسی صحیفے کی عبارت کو نقصان نہ پہنچ جائے۔اس لئے ماہر سائنس دانوں کی خدمات حاصل کی گئیں چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جو بری طرح مروڑے ہوئے تھے۔انہیں کھولنے کے لئے کئی مراحل سے گزارنا پڑتا۔سب سے پہلے ان کو مختلف مائعات میں رکھ کر نرم کیا جاتا۔پھر ان پر جمی ہوئی گرد اور مٹی کو برش سے دور کیا جاتا۔اس طرح جب ان کی عبارت واضح ہو جاتی تو ان کو شیشوں میں کس دیا جاتا۔اور دھندلی عبارتوں کو واضح کرنے کے لئے حساس کیمروں سے فوٹو لئے جاتے کئی صحائف کی سیاہی کا رنگ بالکل اُڑ چکا تھا۔ان کا فوٹو زیریں سرخ (Infra Red) شعاعوں کی مدد سے لیا جاتا۔سب سے مشکل کام ڈھیروں ڈھیر پڑے ہوئے چھوٹے چھوٹے ٹکروں کو ترتیب دینا ہے۔یہ کام واقعی تھکا دینے والا ہے۔ہزاروں ٹکڑے ابھی تک شناخت بھی نہیں کئے جاسکے یہی وجہ ہے کہ صحائف کے بارے میں کسی نظریے کو بھی موجودہ حالات میں حرف آخر قرار نہیں دیا جاسکتا۔غاروں سے حاصل ہونے والے صحائف میں بائبل کی تقریباً تمام کتب شامل ہیں بعض مکمل صحائف ہیں اور بعض نا مکمل۔اور بعض صحائف کے صرف ٹکڑے ملے ہیں۔لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اتنی کثیر تعداد میں صحائف ملنے کے باوجود آستر کی کتاب“ کا کہیں نشان نہیں ملا۔کتب بائیبل کے علاوہ غاروں سے حاصل ہونے والے صحائف کی فہرست درج ذیل ہے اگر چہ اس میں زیادہ سے زیادہ صحائف درج کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے تاہم یہ کسی طرح بھی مکمل قرار نہیں دی جا سکتی