صحائف وادئ قمران — Page 162
166 اور صدقات جیسے عظیم الشان اخلاقی مقاصد نظر آتے ہیں۔صحیفه دستور جماعت سے واضح ہوتا ہے۔ایسینی شادی کرتے تھے اس میں عورتوں اور بچوں کے لئے قوانین واضع کئے گئے ہیں۔دستور العمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسینوں میں مکمل اشتراک اموال پایا جاتا تھا۔اور رکنیت حاصل کرنے کے لئے اپنی ہر ایک چیز جماعت کے سپرد کرنا ہوتی تھی۔(دستورا عمل کالم 1 دستور 12-11) دستور العمل اور صحیفہ دمشق دونوں میں حجی کی کتاب (Book of Haggi) کا ذکر ہے۔جس میں بعض اذکار درج تھے۔تمام ارکان کو ابتداء میں یہ کتاب پڑھائی جاتی تھی۔اور کاہنوں کے لئے اس پر پوری طرح حاوی ہونا ضروری تھا۔اس کتاب کا کوئی نشان نہیں مل سکا۔قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔مثلاً اپنی ملکیت کی تاط اطلاع دینے پر خاص مجالس سے ایک سال اس لئے خارج کر دیا جاتا تھا اور راشن گھٹا کر ایک چوتھائی کر دیا جاتا۔مجالس میں قطع کلامی کرنے پر دس دن کے لئے مذکورہ بالا سزا دی جاتی۔مجلس میں تھوکنے یا سوجانے پر تین دن کی سزادی جاتی تھی۔جماعت میں عورتوں کو مناسب مقام نہیں دیا جاتا تھا۔ان کے متعلق یہ خیال رائج تھا کہ یہ مرد کو خدا کی راہ میں چلنے سے جو بالکل سیدھی مگر بہت تنگ ہے روکتی ہیں اور طرح طرح کی فریب کاریوں سے اس کو اپنی طرف مائل کرتی ہیں۔ایسینی فلسطین کے تمام علاقوں میں پھیلے ہوئے تھے۔اور قصبوں اور دیہات سے مسلک آبادیوں میں رہتے تھے۔اگر کسی رکن کو سفر کرنا ہوتا تو وہ جہاں بھی جاتا وہاں کے جماعتی انتظام سے فائدہ اٹھاتا تھا اور اس کو اپنے ساتھ کسی قسم کا زاد راہ لے جانے کی ضرورت پیش نہ آتی تھی۔ایسینی یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ انسانی زندگی پر ستاروں کا اثر پیدا ہوتا ہے۔الیگر و لکھتے ہیں: "for them the stars and their position could affect men's lives۔۔۔" (The Dead Sea Scrolls P۔126)