صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 161 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 161

165 فریبی اپنے آپ کو موسیٰ علیہ السلام کے جانشین قرار دیتے ہوئے اپنا یہ حق سمجھتے تھے کہ وہ کیلنڈر میں تبدیلی کریں لیکن ایسینی یہ خیال رکھتے تھے کہ موسم اور اوقات کی تعین اللہ تعالیٰ نے ایک ہی دفعہ کر دی ہے اس لئے کسی دوسرے کو اس میں تغیر کا حق نہیں ہے۔ایسینی اس کیلنڈر پر عمل پیرا تھے جو جو بلی کی کتاب میں بیان ہے اور وہ مشمسی کیلنڈر ہے۔ایسینی ہر سال ایک دفعہ قمرانی مرکز میں جمع ہوتے تھے اور سب مل کر اپنے عہد کی تجدید کرتے تھے۔یہ تہوار سال کے تیسرے مہینے میں ہوتا تھا جبکہ ہفتوں کی عید منائی جاتی تھی اس 006 موقعہ پر ایسینی تمام شہروں سے آکر جمع ہو جاتے تھے اور نئے سروں سے بپتسمہ لیتے تھے۔بعض محققین کا خیال ہے کہ شکرانے کے زبور اجتماعی عبادت کے موقع پر پڑھے جاتے تھے۔لیکن بعض دوسرے محققین کو اس پر اعتراض ہے کہ ان میں واحد کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔اس لئے یہ اجتماعی عبادات میں نہیں پڑھے جاسکتے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ ہر رکن کا فرض تھا کہ مناسب وقتوں کے بعد ان زبوروں کو دہرائے۔اس کا مقصد ان کی ذہنی اور روحانی ترقی تھا لیکن ملر بروز کو اس سے اختلاف ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ان کی تحریر کا مقصد محض ذاتی تجربات کا بیان تھا۔جماعت پر ان کو ٹھونسنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔چنانچہ لکھتے ہیں: "That they were composed for the purpose of such use seems to ever very improbable۔" (more light on the Dead Sea Scrolls P۔380) وو ترجمہ یہ کہ وہ کسی ایسے استعمال کو سامنے رکھ کر اس مقصد سے لکھے گئے تھے مجھے بالکل ناممکن دکھائی دیتا ہے۔“ ایسینی تحریرات کا مقصد ملر بروز کے نزدیک مندرجہ ذیل ہے۔:۔"Sincerity love of ones neighbour perfection, chastity fasting and charity are found to be the outstanding ethical ideals of these two documents۔" (More light on the Dead Sea Scrolls P۔382) ترجمه ان دو مسودات کے پیش نظر اخلاص، ہمسائے سے محبت ، تکمیل نفس، عفت، نفس کشی