صحائف وادئ قمران — Page 154
158 A۔D۔68۔"(The Scrolls Christian Origins P۔4) ترجمہ غالب نظریہ یہ ہے کہ قدیم کھنڈرات اس معروف ایسینی آبادی کے آثار پیش کرتے ہیں جس کی نشاندہی پلیسنی کبیر نے اس علاقے میں کی ہے۔اور یہ کہ صحائف اس رقے کی لائبریری کی ملکیت تھے۔جو پہلی یہودی بغاوت (70-64ء) کے دوران اغلبا جنگ کے کسی نازک لمحے جبکہ رومی دستے ویسیازین کی سرکردگی میں 68 عیسوی کے موسم گرما میں بریجو پر حملہ کے وقت بحیرہ مردار کے بالکل قریب پہنچ گئے تھے۔بڑی تیزی کے ساتھ بیک دفعہ قریب کی غاروں میں بغرض حفاظت چھیا دئے گئے۔ایسینی عقائد ورسوم ایسینی فرقہ یہودیوں کی ایک شاخ تھا اسلئے اس کے بنیادی عقائد یہودیوں سے ہی ماخوذ تھے۔عام یہودیوں اور ایسینیوں میں فرق صرف اسقدر تھا کہ ایسینی اصفیا کا راسخ العقیدہ گروہ تھا۔جب کہ دوسرے یہودیوں کے دلوں سے نور ایمان کا چراغ گل ہو چکا تھا۔ایسینی سختی سے احکام کی پابندی کرتے اور جماعت کے قوانین کی خلاف ورزی نظام سے اخراج کا باعث بنتی۔اللہ تعالی کے متعلق ایسینی عقیدہ یہ تھا کہ وہ واحد و یگانہ ہے بے مثل و مانند ہے۔وہ بیوی بچوں سے پاک ہے۔جو سب سے بلندشان والا ہے۔قانون قدرت اسکے بنائے ہوئے ازلی ابدی اصولوں کے تابع چل رہا ہے۔ان کے ذریعے وہ اپنے آئندہ نافذ ہونے والے ارادوں کو ظاہر کرتا ہے۔وہ اس بات کا بار بار ذکر کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے راز ان گنت ہیں۔جو بڑے عجیب اور انسان کے دل میں خشیت پیدا کرتے ہیں۔مگر بیروز لکھتا ہے: "In recent discussions of the Dead Sea Scrolls the connection of the absolute sovereignty of God is seen more and were to be basic for the sect۔" (More Light on the Dead Sea Scrolls p۔278)