صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 141 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 141

145 نے ابتدائے آفرینش سے اس غرض کے لئے بنایا ہے۔ان چیزوں کو وہاں چھپا کر اللہ تعالیٰ کا نام اس جگہ بلند کرو۔یہاں تک کہ آخری زمانہ میں خدا تعالیٰ اس جگہ کے معائنے کے لئے آئے اور وہ تو بہ و پشیمانی کے دن ہوں گے۔" ( کالم 1 سطور 18-16 از چارلس دوم صفحه (415 15۔The Cairo Genizo by P۔E۔Kahle P ( بحوالہ صحائف قمران از مکرم شیخ عبد القادر صاحب لاہور صفحہ 25) جیسا کہ کتاب کی عبارت سے ظاہر ہے صحائف کو محفوظ کرنے کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ جب آخری زمانہ میں حقیقی تعلیمات دنیا سے معدوم ہو جائیں گی تو لوگ ان صحائف سے روشنی حاصل کریں گے۔یہودیوں میں صحائف کو محفوظ کرنے کی تعلیم پہلے بھی موجود تھی۔چنانچہ دانیال نبی کے صحیفہ کے باب 12 میں لکھا ہے۔یہ باتیں آخری وقت تک سر بمہر و بند رہیں گی۔۔۔تو اے دانیال ! ان باتوں کو بند کر رکھ۔اور کتاب پر آخری زمانہ تک مہر لگا دے۔بہتیرے اس کی تحقیق و تفتیش کریں گے۔66 اور دانش و حکمت افزوں ہوگی۔" جماعت قمران کے پیش نظر بھی یہ تعلیمات تھیں چنانچہ انہوں نے ان تعلیمات کے پیش نظر اپنے صحائف کو محفوظ کیا۔اسی طرح پر میاہ نبی کے صحیفہ 32/15 میں لکھا ہے۔رب الافواج اسرائیل کا خدایوں فرماتا ہے کہ یہ کاغذات لے یعنی یہ قبالہ جو سر بمہر ہے۔اور یہ جو کھلا ہے اور ان کو مٹی کے برتن میں رکھتا کہ بہت دنوں تک محفوظ رہیں۔“ اسی حکم پر عمل کرتے ہوئے جماعت قمران نے اپنے صحائف مٹی کے برتنوں میں سر بمہر کر کے محفوظ کر دئے۔صحیفہ دمشق جس کے کئی نسخے وادی قمران سے ملے ہیں اس کے باب پنجم میں لکھا ہے کہ کتاب شریعت ایک تابوت میں سر بمہر کر کے یشوع بن نون کے زمانہ سے ایک مخفی جگہ چھپا دی گئی جو تقریباً 600 سال بعد ایک صادق کا ہن کو ملی۔اس واقعہ کا ذکر بائیل کی کتاب