صحائف وادئ قمران — Page 10
11 پادری نے انہیں آوارہ خیال کیا اور واپس لوٹا دیا۔البتہ اس نے آرک بشپ کو اطلاع دی کہ اس قسم کے دو آدمی اسے ملنے آئے تھے۔اسے بہت افسوس ہوا بڑی مشکل سے اس نے انہیں تلاش کر لیا۔اور ایک مشہور روائت کے مطابق پچاس پونڈ میں ان سے پانچ صحائف خرید ، لئے۔ایک عرصہ تک اس نے کسی سے اس چیز کا اظہار نہ کیا کیونکہ بدؤوں نے محکمہ اثار قدیمہ کو اس دریافت کی اطلاع نہ کی تھی۔اور یہ قانون کی خلاف ورزی تھی۔اس دریافت کے چھ ماہ بعد ۲۵ نومبر ۱۹۴۷ء کو ہدو مزید صحائف لیکر بیو پاری کے پاس آئے۔اس نے یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کے پروفیسر سکینک (Sukenik) کو صحائف کا نمونہ بھجوایا۔اسے دیکھ کر ۲۹ نومبر کو سکینگ خود تاجر کو ملنے کے لئے آیا۔اور صحائف کا مجموعہ اور دومرتبان خرید لئے۔مارا تھنا سیس سموئیل اور کراز (Kiraz) نے صحائف کو فروخت کرنے کی کوشش کی مگر جتنی قیمت وہ چاہتے تھے وہ نہ مل سکی۔انہوں نے امریکن سکول آف اوری اینٹل ریسرچ کے ڈاکٹر ٹریور (Trever) سے رابطہ قائم کیا۔انہوں نے صحائف خریدنے سے انکار کیا۔البتہ وہ ان کے فوٹو لینے اور متن شائع کرنے پر رضا مند ہو گئے۔اور سینٹ مرقس مونا سٹری (Monastery) کا مجموعہ صحائف امریکہ لے جایا گیا۔اور یہ صحائف امریکہ میں دس لاکھ ڈالر کی قیمت پر فروخت کے لئے پیش کئے گئے اور امریکہ کے مختلف شہروں میں ان کی نمائش کی گئی۔ستمبر ۱۹۴۸ء میں یروشلم کے خراب سیاسی حالات کے باوجود پروفیسر سکینک نے صحائف کے بارے میں اپنی پہلی رپورٹ شائع کردی۔دوسری رپورٹ آئندہ سال شائع ہوئی۔اس کے ساتھ ہی ملر بروز ) Millar Burrows of Yale University America) نے یسعیا والف اور تغییر حقوق کے متن شائع کر دیئے۔صحائف کی قدامت کا اندازہ لگایا جا چکا تھا اب ان کے مضامین بھی لوگوں کے سامنے آنے لگے اور ان میں عوام کی دلچسپی بڑھنے لگی بہت سے لوگوں کے