صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 122 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 122

125 نئے عہد نامے میں بائیبل کے حوالے نئے عہد نامے میں عہد عتیق کے جو حوالے درج کئے گئے ہیں وہ مسورائی متن سے مختلف ہیں۔علماء کو خیال پیدا ہوا کہ شاید یہ سبعینہ میں مل جائیں گے۔کیونکہ ابتدائی کلیسیاء کی بائیل وہ یونانی ترجمہ تھا جو سبعینہ کہلاتا ہے۔لیکن یہ حوالے سبعینہ کے متن سے بھی اختلاف رکھتے تھے۔علماء اس بارے میں شروع سے ہی بڑے پریشان تھے۔کہ آخر یہ حوالے کہاں سے لئے گئے ؟ اور انجیل نویسوں کے سامنے پائیل کا کونسا متن تھا؟ یہ بات ان کے تصور میں بھی نہ آسکتی تھی کہ مسیح علیہ السلام کے حواری حسب منشاء مفہوم نکالنے کیلئے بائیل کے متن کو توڑ موڑ کر پیش کیا کرتے تھے۔اور ان کے ہاں اس کے الفاظ میں رد و بدل کرنا کوئی گناہ نہ تھا۔خصوصاً متدین علماء کی پریشانی اس درجہ بڑھی ہوئی تھی کہ نویں صدی عیسوی کے ایک مسیحی عالم نے ایک پادری کو مخط لکھا کہ یہ بات مرے دل میں ایک آگ کی طرح جل رہی ہے۔جان الیگر و اس پریشانی کا اظہار مندرجہ ذیل الفاظ میں کرتے ہیں: "What is more puzzling is where they quote the version which is otherwise completely unknown۔" ,, ترجمہ: جو بات اس سے بھی زیادہ پریشان کن ہے۔وہ اس جگہ پیش آتی ہے۔جہاں وہ متن کی ایسی روائت کا حوالہ دیتے ہیں۔جو بالکل نامعلوم ہے۔“ صحائف قمران کی دریافت نے علماء کی اس پریشانی کو دور کر لیا ہے۔کیونکہ ان تحریروں سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ انجیل نویسوں سے بہت پہلے ایسینی فرقے میں بھی یہی طریق رائج تھا۔ان کی تحریروں میں بکثرت ایسے حوالے ملے ہیں۔جو کسی متن سے بھی نہیں لئے گئے۔بلکہ اپنی مرضی کے مطابق مفہوم پیدا کرنے کیلئے بائیل کی عبارتوں میں ردو بدل کیا گیا The dead sea scrolls۔P-150 1