صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 103 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 103

106 پتہ چلتا ہے۔کہ جماعت کے لوگ اپنے آپکو دل کے غریب یعنی ” بیونی“۔حقیقی اسرائیل۔چنیدہ اور ایسا فرقہ جو خدا تعالی کے قدیم عہد پر قائم ہے کہتے تھے۔بالکل یہی نام ابتدائی مسیحیوں کو حضرت عیسی علیہ السلام نے دیئے۔اس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ایسینی فرقہ حضرت مسیح علیہ السلام پر آپ کی بعثت کے ابتدائی زمانے میں ہی ایمان لے آیا۔اور آپ کے متبعین میں شامل ہو گیا۔اور اس طرح ان کا بطور فرقہ کے الگ موجود نہ رہا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس فرقہ کا کہیں ذکر نہیں کیا۔بلکہ ان لوگوں کی تعریف کی جو دل کے غریب ہیں اور خدا تعالیٰ کی راہوں پر چلنے والے ہیں۔ایسینی فرقہ کی بنیاد دوسری صدی ق م میں بتائی جاتی ہے۔ایسی نی تحریرات سے محققین اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ان کے ہاں علماء کی تربیت کے لئے باقاعدہ مدرسہ موجود تھا۔ابتدائی مسیحیت اور ایسینی فرقے کے اعتقادات ، عبادات، رسوم اور انتظامی امور میں غیر معمولی مشابہت ہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے محققین اس طرف گئے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے ایسینی مدرسوں میں تعلیم وتربیت حاصل کی۔اور وہیں آپ کو ریاضت اور عبادات بجالانے کے نتیجے میں نبوت کا مقام ملا۔اور نبوت کے مقام پر فائز ہونے کے بعد آپ ایسینی فرقے کے قوانین کے پابند نہ رہے۔بلکہ آپ نے ایسینیوں کو وحی جدید کی تبلیغ کی۔جس پر وہ ایمان لائے اور آپ تمام بنی اسرائیل کو تبلیغ کرنے کے لئے نکلے آپ کے کم از کم تین حواری بھی ایسینی بتائے جاتے ہیں۔محققین میں شروع سے یہ خیال چلا آیا ہے کہ ابتدائی مسیحیت اور ایسینیوں میں بہت سی مشابہت پائی جاتی ہیں۔چنانچہ ہاورڈ کلاک کی لکھتے ہیں۔"Scholars have long recognized that there are similarities in the organization, practices beliefs of the essence and the early Christian community۔The Dead Sea Scrolls have provided details of the three principal areas of similarity۔