صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 6 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 6

7 انکشاف جس سال پاکستان کی عظیم الشان اسلامی مملکت دنیا کے نقشہ پر ابھری اس سال موسم بہار میں بحیرہ مردار کے مغربی ساحل پر وادی قمران کی غاروں سے نہائیت قیمتی صحائف دریافت ہوئے ان صحائف کو دیکھتے ہی محققین پکار اٹھے کہ یہ ہمارے زمانے کی سب سے بڑی دریافت ہے۔کہانی یوں بتائی جاتی ہے کہ ایریل ۱۹۴۷ء میں تعمیر " قبیلے کا ایک بدو نوجوان جس کا نام محمد الذئب تھا بحیرہ مردار کے ساحل پر واقعہ پہاڑیوں میں اپنی بکریاں چرار ہا تھا۔اسکی ایک بکری کھو گئی۔وہ اس کی تلاش میں تھا کہ اسے ایک بہت بڑی غار دکھائی دی۔اس نے غار کے اندر پتھر پھینکا تو اس کے لگنے سے کسی برتن کے ٹوٹنے کی آواز آئی۔لڑکا ڈر کر بھاگ گیا۔اگلے روز وہ اپنے ساتھی کے ساتھ پھر غار پر پہنچا۔غار کا دہانا بہت تنگ تھا۔وہ دونوں مشکل سے اس میں داخل ہو گئے۔اندر جاکر انہوں نے دیکھا کہ بہت سارے مرتبان قطاروں میں پڑے ہیں۔اور بہت سارے ٹوٹے ہوئے ہیں۔جذبات کی شدت نے ان کے ذہنوں میں بہیجان پیدا کر دیا ایسے لگتا تھا جیسے کسی بادشاہ کا خزانہ لوٹنے کا خواب دیکھ رہے ہوں دھڑکتے دلوں اور کانپتے ہاتھوں سے انہوں نے بجلی کی تیزی سے باری باری تمام مرتبانوں کے ڈھکنے اٹھائے لیکن اکثر مرتبان کو بالکل خالی اور چند ایک میں چمڑے کے ردی اور نہائیت خستہ طومار دیکھ کر ان کے سارے خزانے خاک میں مل گئے۔اور امید کی کرن جو مرتبانوں کو دیکھ کر ان کے دل پر پڑی تھی وہ نفرت و یاس کی تاریکی میں بدل گئی۔اور برتنوں ے پاکستان 1947 ء کو معرض وجود میں آیا۔عام طور پر یہی خیال کیا جاتا ہے کہ صحائف اسی سیال دریافت ہوئے۔بعضی محققین نے یہ روائت بھی درج کی ہے کہ صحائف کی دریافت 2 سال قبل 1945 ء میں ہوئی اور بدوؤں نے 2 سال تک صحائف کو چھپائے رکھا۔