صحائف وادئ قمران — Page 58
59 س لئے کیا گیا؟ اور تم نے کیوں اپنے نام کے ساتھ القابات پسند کر لئے ؟ چومیں سال گذر گئے اور تم صحائف کو گن نہ سکے؟ محقق تو بہت بلند نام ہے ایک عام آدمی بھی اس بات سے بہت بالا ہے۔میں کہتا ہوں پاگل کا مقام بھی اس سے اعلیٰ ہے۔ہاں پرند چرند بھی اپنی چیزوں کا حساب رکھتے ہیں۔تو پھر میں حیران ہوں کہ ان ہستیوں کو کس نام سے پکاروں جو اپنی قیمتی چیز کا حساب نہ رکھیں۔جب انکی کرسی بچھانے کا سوال ہو تو کہتے ہیں کہ ہم دنیا کی سب سے بڑی دریافت پر تحقیق کرتے ہیں۔اور جب اس دریافت کا حال پو چھا جائے تو کہتے ہیں کہ چوبیس سال کے لمبے عرصہ میں اس کے اجزاء کو ایک بار گنتی بھی نصیب نہیں ہوسکی!! تم خود ہی بتاؤ کہ ہم تمہاری کس ادا پر جان دیں؟ تمہاری کس وفا کو یاد کریں؟ تمہارے کون سے وعدے پر اعتبار کریں؟ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ تم نے کتنی تحریرات کو قبل اس کے کہ وہ اسیران جہالت کو حریت علم سے بہرہ ور کرتیں زمین کے چہرے سے غائب کر دیا ہے۔صحائف کی گنتی نہ کرنے کا سوائے اس کے اور کوئی منطقی نتیجہ نہیں نکلتا کہ محققین کی نیت نیک نہیں۔صحائف سے دلچسپی رکھنے والے تمام لوگوں پر یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ان کے مضامین عیسائی عقائد کی بیخ کنی کرتے ہیں۔ایسی تحریرات کو ضائع کرنے کا خطرہ بھی سبھی محسوس کرتے ہیں لیکن یہ تو سب کچھ تھیلے سے باہر ہورہا ہے اور محض تماشائیوں کے خیالات ہیں۔آئیے آپ کو گھر کے بھیدی جان الیگرو کی زبانی کچھ اندر کی بات سنائیں۔اپنی کتاب کے دوسرے ایڈیشن کے پیش لفظ میں رقمطراز ہیں۔"What is perhaps even more disturbing than this partial boycott of the scrolls on the part of Christian scholars is the cloak of secrecy that has hung over the acquisition and disposal of these vital and often mort controversial documents since 1956۔Scrolls have secretly