صحائف وادئ قمران — Page 54
55 اس مراسلے پر صحائف کی ٹیم کے چار ارکان کے دستخط تھے ان میں سے تین کیتھولک پادری تھے اسکے بعد ایک پادری فادر یومتری گرے سٹون کو ان کی ترتیب کا کام سونپا گیا۔انہوں نے پورپ کے نمائندے کی حیثیت سے کیتھولک ٹیبلٹ رسالے میں مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا اس کے ساتھ ہی واشنگٹن کی کیتھولک یونیورسٹی کے امریکی پروفیسر پیٹرک سیکہان کو ٹیم میں شامل کر دیا گیا انہون نے بھی جان الیگرو کے خلاف مضامین شائع کئے اور ان کی زیراشاعت کتاب کو بد نام کرنے کی کوشش کی لیکن جب نوجوان الیگرو نے ان چیزوں کی پرواہ نہ کی تو ان کے افسر پروفیسر رولے کے ذریعہ ان کو ڈانٹ پلائی گئی۔امریکی مقالہ نگار ولسن لکھتے ہیں: "It is said that his superior at the university Baptist Professor Rawlay admonished him on one occasion Allegro adagio۔" ترجمہ " کہا جاتا ہے کہ یونیورسٹی میں اس کے افسر پروفیسر رولے نے جو پیٹنٹ عیسائی فرقہ سے ہیں ایک موقعہ پر اس کو تنبیہ کی۔“ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نوجوان محقق مسیحی دنیا کی مخالفت کی تاب نہ لا سکا اور اپنے مسلک سے ہٹ گیا۔آپ کو یاد ہوگا کہ قرون وسطی میں اس قسم کا ایک واقعہ اٹلی کے مشہور اور نیک دل سائنسدان گلیلیو کو بھی پیش آیا تھا۔اس سے کلیسیا کی طرف سے مقرر کردہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے ہر قسم کے دلائل دیگر ثابت کیا کہ زمین گول ہے اور یہ کائنات کے مرکز میں نہیں بلکہ خود سورج کے گرد گھومتی ہے اور یہ کہ زمین کی طرف آزادانہ گرنے والی تمام اشیاء ایک ہی رفتار سے گرتی ہیں۔وزن کی کمی بیشی ان کی رفتار پر اثر انداز نہیں ہوتی مگر اس کی ایک نہ سنی گئی اور اسے یہ بیان دینے پر مجبور کیا گیا کہ اگر چہ میری عقل وہی کہتی ہے جو میں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے لیکن پھر بھی یہ سب کچھ غلط ہے۔بالکل اسی طرح آج ہماری آزاد دنیا میں جان الیگر و کو اپنی غلطی تسلیم کرنے پر مجبور کیا گیا جو انہوں نے کر لی۔جناب ولسن لکھتے ہیں: The dead sea scrolls 1947-69 P-164 ↓