صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 46 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 46

47 انفرادیت کو بچانا تھا۔اس لئے وہ تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے۔کہ صحائف اسی زمانہ کی تحریرات ہیں۔جب حضرت مسیح اپنے مشن کی تبلیغ فرمارہے تھے۔آکسفورڈ کی یونیورسٹی کے پروفیسر جی آر ڈرائیور کی کتاب The Judean Scrolls The Problem and a Solution پر تبصرہ کرتے ہوئے ایڈمنڈ ولسن لکھتے ہیں۔"The upshot of all this is an attempt to date the scrolls so late between the middle of the first century A۔D۔and the first half of the second century that the doctrines and practices of the people who wrote them could not possibly have had any influence on the origins of Christianity۔ترجمہ :۔اس سب کوشش کا ماحصل یہ ہے کہ صحائف کو اس قدر بعد کے زمانہ کا قرار دیا جائے۔یعنی پہلی صدی نصف سے لیکر دوسری صدی کے نصف اول تک تا کہ ان لوگوں کے عقائد و اعمال کا اثر عیسائیت کی ابتداء پر نہ پڑے جنہوں نے ان کو لکھا۔اور یہودیوں کا مقصد بائیل کے متن کو تنقید سے بچانا تھا۔ایڈ منڈ ولسن لکھتے ہیں۔"In case of these Jewish scholars who have refused to recognize the antiquity of the documents, I believe that this reluctance has been due either to their presenting so many variants from the Masoritic text of the "☑ Bible۔۔۔۔۔۔۔۔ترجمہ:۔ایسے یہودی علماء کی صورت میں۔۔۔۔جنہوں نے صحائف کی قدامت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔مجھے یقین ہے کہ ان کی اس بد دلی کا باعث یہ ہے کہ مسورائی متن کے صحائف بہت زیادہ جگہ اختلاف رکھتے ہیں۔راسخ العقیدہ علماء میں سے ایک گروہ ایسا بھی پیدا ہوا جس نے یہ کہنا شروع کیا۔کہ The dead sea scrolls (1947-69) P-137 The dead sea scrolls (1947-69) P-126 ☑