صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 37 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 37

38 ہونے کے باوجود بالکل خالی تھا۔ابتداء میں محققین کا خیال تھا۔کہ غاروں سے ملنے والے مرتبان بہت پرانے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔لیکن مذکورہ مرتبان کے ملنے سے یہ خیال ترک کرنا پڑا۔اور اس کی جگہ یہ خیال پیدا ہوا کہ صحائف والے مرتبان بھی ایسینیوں کی مقامی صنعت کا نتیجہ تھے۔کھنڈرات سے بعض ایسے ظروف بھی ملے ہیں جن پر صحائف کے رسم الخط میں بعض عبرانی حروف منقوش ہیں۔غاروں سے ایک اور دیا اور کھانا پکانے کا برتن بھی ملا ہے۔ان اثار سے ایسینی نظریے کے حق میں ناقابل تردید ثبوت مہیا ہو گئے ہیں۔اور یہ نظر یہ مکمل طور پر رد کیا گیا۔کہ زیر بحث کھنڈرات کسی رومی قلعے کے آثار ہیں یہ نظر یہ اس بات پر مبنی تھا کہ ان عمارات سے لوہے کے تیروں کے کچھ پھل ملے ہیں۔لیکن اب اس کی یہ تشریح کی جاتی ہے کہ عمارات رومی حملے کے نتیجہ میں خالی کی گئیں۔اور کچھ عرصہ کے لئے یہاں رومی فوج کا محافظ دستہ تعینات کردیا گیا۔لیکن دوسری بغاوت کے موقع پر عمارت کا انخلاء لڑائی کے بعد مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔1953ء کی کھدائی میں قبرستان سے چھ قبریں کھولی گئیں۔تین سال بعد مزید بارہ قبریں کھولی گئیں۔مگر دونوں دفعہ صرف مردوں کے ڈھانچے حاصل ہوئے۔کسی قبر میں بھی عورت دفن نہ تھی۔انتہائی مشرق میں ایک چھوٹا قبرستان ہے۔جو بڑے قبرستان سے الگ ہے یہاں سے چھ قبریں کھولنے پر عورتوں اور بچوں کے ڈھانچے برآمد ہوئے ہیں۔شمال میں ایک اور چھوٹا سا قبرستان ہے۔یہاں سے دو قبریں کھولی گئیں۔ایک قبر میں مرد اور دوسری میں عورت مدفون تھی۔تمام قبریں شمالاً جنو با بنی ہوئی ہیں۔اور تقریبا پانچ فٹ گہری ہیں۔میت کو رکھنے کے لئے مشرقی دیوار کے نیچے چھوٹا سا کمرہ بنایا ہوا ہے۔اس کمرے میں اسے کفن پہنائے بغیر کمر کے بل لٹایا گیا ہے۔میت کا سر جنوب کو رکھا جاتا تھا۔بعد ازاں کمرے کا دہانہ اینٹوں سے یا پتھر سے بند کر کے قبر کو مٹی سے پر کیا جاتا تھا۔کمرے کا دہانہ بند کرنے کے لئے اینٹ اور پتھر کی بجائے ٹوٹے ہوئے برتن بھی استعمال کئے جاتے تھے۔یہ برتن بھی صحائف کو محفوظ کرنے والے برتنوں سے ملتے جلتے ہیں۔اس سے یہ بات بالکل عیاں ہو جاتی ہے کہ