صحائف وادئ قمران — Page 21
22 گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ابنائے نور کی افواج کے دستے جس ترتیب سے مارچ کریں گے وہ جو بھی آلات حرب اور جنگی لباس استعمال کریں گے اور جس قسم کے بگل جن سروں میں بجائے جائیں گے ان سب چیزوں کا بیان صحیفے میں بالکل سپاہیانہ انداز میں کیا گیا ہے۔اس میں جنگ کی تیاری اور آرمجرن کے مقام پر مڈھ بھیڑ کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ابنائے نور کی کامیابی کو محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور فرشتوں کی تائید کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔پیدائش (اپاکرفا):۔یہ آرامی صحیفہ میٹرو پولیٹن سموئیل کے مجموعے میں شامل تھا۔1954ء میں جنرل یا وین نے اسے عبرانی یونیورسٹی کی خاطر خریدا۔یہ سیدھا لپٹا ہوا تھا۔یہ بہت خراب حالت میں ملا ہے۔غار میں رکھنے سے پہلے اس پر مرمت کے آثار ہیں میڈیکو کا خیال ہے۔کہ اس کے آخری کالم غار میں رکھنے سے قبل چاقو سے کاٹ لئے تھے۔کسی مائع کے کیمیائی عمل سے اس کی نچلی جانب بالکل کھائی جاچکی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ غار کے اندر ایسے حالات میں پڑا رہا جن کا صحیح علم کیمیائی تجزیہ کے بعد ہی ہو سکے گا۔کشش شعری کے نتیجے میں یہ نا معلوم مائع صحیفے کی اوپر کی جانب بھی سرائیت کر گئی ہے۔اور اس طرف کی سیاہی بھی پھیکی پڑ گئی ہے۔اور اکثر مقامات سے پھیل گئی ہے۔بعض جگہ سیاہی اور نامعلوم مائع کے اجتماعی عمل سے چمڑہ بھی کھایا گیا ہے۔اور سطور کی جگہ جھریاں سی پڑ گئی ہیں۔ضرور زمانہ کے اثر سے اور دریافت کے بعد غیر محتاط ہاتھوں سے گذرنے کے باعث اسکا ابتدائی حصہ ضائع ہو چکا ہے۔اب یہ معلوم کرنا ممکن نہیں کہ کتنا حصہ ضائع ہو چکا ہے۔اس کے کالم 10 تا 15 پر کسی سفید مادے کی ایک دبیز تہہ جمی ہوئی تھی۔بعض جگہ یہ بُری طرح چمڑے سے جڑی ہوئی تھی۔اور بڑی مہارت سے دور کرنا پڑی۔اس مادے کا کیمیائی تجزیہ کیا جا چکا ہے۔مگر آخری تین کالم بالکل محفوظ ہیں مگر آخری حصہ کٹ جانے سے عبارت فقرے کے درمیان میں ہی ختم ہو جاتی ہے۔یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ کتنے کالم کاٹے گئے۔بائیں جانب عبارت کے اوپر چمڑے کا ایک ٹکڑا نہ جانے کیوں چمٹا ہوا ہے۔اس صحیفے کے بعض دوسرے نسخوں کے ٹکڑے