صحائف وادئ قمران — Page 176
181 -6 حضرت مسیح علیہ السلام پر یہودیوں نے رومی حکومت سے بغاوت کا الزام لگایا۔آپ پر یہود کی طرف سے کفر کا بھی الزام تھا۔پس آپ پر دوہرا مقدمہ چلایا گیا۔ایک مقدمہ یہود کی مذہبی عدالت Sanhedron میں چلایا گیا اور آپ کو صلیب پر مارنے کا فیصلہ صادر کیا گیا اور اس کے بعد رومی گورنر ہیرودیس کی عدالت میں پیش کیا گیا اس کی عدالت کے بعض ممبر حضرت مسیح علیہ السلام کے در پردہ مرید تھے لیکن انہوں نے اس نازک موقعہ پر آپ کی کوئی مدد نہ کی اور مکمل خاموشی اختیار کی۔یہاں تک کہ یہودیوں نے عدالت پر زور ڈال کر حضرت مسیح کے خلاف فیصلہ کروالیا اور آپ کے پاک وجود کے لئے ہر قسم کی ایذاء روا رکھی اور ہر قسم کے تمسخر اور ٹھٹھے اور مذاق کا آپ کو نشانہ بنایا۔یہاں تک کہ آپ کے کپڑے اتار کر آپس میں تقسیم کئے۔دیکھئے متی باب 27۔اسی طرح استاد صادق کو ایذاء دینے کے لئے طرح طرح کی تدابیر کی گئیں اور بالآخر آپ پر مقدمہ چلایا گیا۔چنانچہ تفسیر حقوق 2/15 میں معلم کا ذب کے متعلق لکھا ہے: "Who chased after the true exponent of the law, right to the house where he was dwelling in exile, in order to confuse him by a display of violent temper ترجمہ: ”اس نے شریعت کے حقیقی شارح کا پیچھا عین اس جگہ تک کیا جہاں وہ ہجرت کے دوران رہائش پزیر تھا تا کہ اپنی تند خوئی سے اسے پریشان کرے۔“ ڈومینٹ سومر نے اس جگہ عبرانی عبارت کا ترجمہ بایں الفاظ کیا ہے۔"Thou hast dared to strip him of his clothing۔" ترجمہ: تو نے اس کے کپڑے اتارنے کی جرات کی۔“ اس پر Gilpes نے مندرجہ ذیل تبصرہ کیا ہے: "۔۔۔the passage would them immediately recall the passage in St۔Mathew (xxvii: 28) The Scriptures of Dead sea sect by Gaster۔P-240 ↓