صحائف وادئ قمران — Page 172
177 community of the Renewed Covenant, opened up the meaning of the ancient scriptures and established a new discipline in anticipation of the Messianic era۔" ترجمہ جسطرح حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے لئے میثاق قدیم کا وسیلہ بنے اسی طرح استاد صادق نے عہد نامہ جدید کے لئے ایک جماعت کی بنیاد ڈالی۔پہلی کتب کا صحیح مفہوم واضح کیا اور ایک جدید لائحہ عمل قائم کیا۔دور مسیح کی پیش بینی کے طور پر۔-2 حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے حکمت سے نوازا تھا۔آپ کی زبان مبارک سے علم و معرفت کے چشمے رواں تھے۔اس کے ثبوت کے لئے انجیل کے کسی بھی ورق کا مطالعہ کافی ہے۔استاد صادق کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے لئے خاص کیا تھا۔اور اسے تمام نبیوں کے کلام کی کامل معرفت عطاء کی تھی۔وہ شریعت کے رازوں کا جاننے والا تھا۔ایسینی مفسر حقوق 202 کی تفسیر کرتے ہوئے اسے استاد صادق پر چسپاں کرتا ہے اور لکھتا ہے: "who had been taught by God all the secrets of the words of his servants the prophets۔' ترجمہ: جس کو اللہ نے خود تعلیم دی اور اپنے بندوں یعنی انبیاء کے کلام کے تمام اسرار کی معرفت اس کو عطا کی۔استاد صادق کے لکھے ہوئے زبوروں کے مطالعہ سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ایک ایک لفظ جو استاد صادق کے منہ سے نکلا ہے حق ومعرفت کا جام ہے۔ان کے مطالعہ سے روح کو سرور اور دل کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مسیح سے فرمایا اذعلمتك الكتاب والحكمة والتوراة والانجيل -3 حضرت مسیح علیہ السلام نے یروشلم کی تباہی کے لئے پیشگوئی فرمائی جو واقعہ صلیب کے چالیس سال بعد پوری ہوئی۔نائٹس رومی نے میر علم کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور یہودیوں کے لئے یروشلم میں رہنا ناممکن ہو گیا۔بہنوں کو اس نے قتل کیا اور صلیب دیگر مارا اور باقی بھا The last years of Jesus Revealed۔P-22 1