صحائف وادئ قمران — Page 170
175 الوہیت کو بچانے کی بجائے حق کی پیروی کرتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کو حقیقت سے محروم رکھتا۔چنانچہ عیسائی محقق ڈاکٹر جے ایل ٹیٹر نے یہ نظریہ پیش کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام ہی استاد صادق ہیں۔انہوں نے اپنے نظریے کو بڑی تحدی کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھا اور حضرت مسیح علیہ السلام اور استاد صادق کی زندگی میں ہر طرح مماثلت ثابت کی۔اکثر آزاد محققین اس نظریے سے متاثر ہیں۔اگر چہ وہ اس کا ذکر بین السطور کرتے ہیں۔لیکن یہ سب کچھ عیسائی دنیا کی مخالفت کے ڈر سے ہے۔ورنہ اس وقت بہت سے لوگ اس حقیقت سے آگاہ ہو چکے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام تمام انبیاء کی طرح ایک نبی تھے۔اور الوہیت اور کفارہ اور تثلیث وغیرہ انوکھے عقائد بعد کی پیداوار ہیں۔آپ کی جو تعلیمات صحائف سے حاصل ہوئی ہیں ان میں ان چیزوں کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔واقعہ صلیب کے بعد آپ کا اصل نام کے ساتھ ذکر کیا جاتا یہود کو بھڑ کانے کا موجب تھا۔اس لئے آپ کو استاد صادق کا صفاتی نام دیا گیا۔صحائف میں مناجات کی ایک کتاب ملی ہے۔اس کے مطالعہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام واقعہ صلیب کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے انہیں موت کے پنجہ سے نجات دیدی آپ نے ان اذیتوں کا واضح الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔جو یہودیوں نے آپ کے لئے روا رکھیں۔آپ اس بات کا بھی ذکر فرماتے ہیں۔کہ میری حالت موت کے مشابہہ ہوگئی۔لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاتھ نے مجھے بچایا اور میری قسمت پھر سے بحال ہو گئی۔لیکن آپ نے فلسطین میں رہنا مناسب خیال نہ کیا اور اللہ تعالی کے حکم سے آپ نے دور دراز کے علاقے کی طرف ہجرت کی۔اور انجیل کے بیان کے مطابق کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں آپ نے کشمیر کا سفر اختیار کیا۔اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کے متبعین کو حقیقی علم و معرفت کا وارث کر دیتا ہے۔وہ اس علم کی روشنی میں ایسی بار یک اشیاء کو بھی پالیتے ہیں۔جو ان کے غیر کے لئے سراسر اخفاء اور تاریکی میں ہوتی ہیں۔