صحائف وادئ قمران — Page 164
168 اس امر کا فیصلہ کیا جاتا۔کہ شخص جماعت کا رکن بن سکتا ہے یا نہیں۔اس کے بعد اس سے ایک قسم لی جاتی۔جب وہ گزشتہ گناہوں کا اقرار کر کے ان سے توبہ کرتا اور آئندہ کے لئے برائی سے بچتے ہوئے جماعت کے قوانین پر عمل پیرا ہونے کا پافتہ عہد کرتا۔اس کے بعد وہ اپنا سارا اثاثہ جماعت کے قبضے میں دے دیتا۔اور جماعت کے سٹور سے فائدہ اٹھاتا۔اور اجتماعی کھانے اور جماعت کے اجلاس میں شریک ہوتا تھا۔25 سال سے کم عمر کا کوئی شخص کسی عہدے پر فائز نہ ہوسکتا تھا۔اور تمہیں سال سے کم عمر کا کوئی شخص کنبے کا سردار نہیں بن سکتا تھا۔عام معاملات کے لئے ایک کا بینہ ہوتی تھی۔جس کی رکنیت کا فیصلہ ووٹ کے ذریعہ سے ہوتا تھا۔کوئی بھی فرد جماعت اس کا رکن بن سکتا تھا۔لیکن یہ شریعت کے کاموں میں دخل نہ دیتی تھی۔ارکانِ جماعت کو جھوٹ بولنے کی سخت ممانعت تھی۔اسی طرح قسم کھانا بھی منع تھا۔ایک دوسرے کو سلام کی تلقین کی جاتی تھی۔